حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 22
مارشاہ صاحب باب اول۔۔۔۔۔۔ابتدائی حالات سید میراں شاہ جو حضرت سیدہ سعیدۃ النساء صاحبہ کے بھانجے تھے ) نے واپس آنا تھا۔وہ رات اس مریضہ پر اس قدر سخت گزری کہ معلوم ہوتا تھا کہ صبح تک وہ نہ بیچیں گی۔اور مریضہ کو بھی یہی یقین تھا کہ وہ نہیں بچیں گی۔اسی روز انہوں نے خواب دیکھا کہ رعیہ میں جہاں میں ملازم تھا اس کے شفاخانہ کے باہر ایک بڑا خیمہ لگا ہوا ہے لوگ کہتے ہیں کہ یہ خیمہ مرزا صاحب قادیانی کا ہے۔کچھ مرد اور کچھ عورتیں ایک طرف بیٹھے ہیں۔مرداندر جاتے اور واپس آتے ہیں۔عورتیں اپنی باری پر ایک ایک کر کے اندر جاتی ہیں۔آپ اپنی باری پر بہت ہی نحیف شکل میں پردہ کئے حضور ( علیہ السلام) کی خدمت میں جا کر بیٹھ گئیں۔پوچھنے پر کہ کیا تکلیف ہے انہوں نے انگلی سے سینہ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ مجھ کو بخار، دل کی کمزوری اور سینہ میں درد ہے۔حضور (علیہ السلام) نے اسی وقت ایک خادمہ سے ایک پیالہ پانی منگوا کر اس پر دم کر کے اپنے ہاتھ سے ان کو دیا اور فرمایا۔اس کو پی لیں۔اللہ تعالیٰ شفا دے گا۔پھر حضور (علیہ السلام) نے اور سب لوگوں نے دعا کی اور وہ پانی انہوں نے پی لیا۔پھر میری اہلیہ نے پوچھا کہ آپ کون ہیں اور اسم شریف کیا ہے۔فرمایا کہ میں مسیح موعود اور مہدی موعود ہوں اور میرا نام غلام احمد ہے اور قادیان میں میری سکونت ہے۔خدا کے فضل سے پانی پیتے ہی ان کو صحت ہوگئی ( خواب کا ذکر ہورہا ہے ) اس وقت انہوں نے نذر مانی کہ حضور کی خدمت میں بیعت کے لئے جلد حاضر ہوں گی۔فرمایا بہت اچھا۔خواب کے بعد وہ بیدار ہوئیں شیر شاہ دوسرے روز صبح واپس پہنچا۔اس رات کو بہت مایوسی تھی اور میرا خیال تھا کہ صبح جنازہ ہو گا۔لیکن صبح بیدار ہونے پر انہوں نے آواز دی کہ مجھے بھوک لگی ہے۔مجھے کچھ کھانے کو دو اور مجھے بٹھا ؤ اسی وقت ان کو اٹھایا اور دودھ دیا اور سخت حیرت ہوئی کہ وہ مردہ زندہ ہوگئیں۔عجب بات یہ تھی کہ اس وقت ان میں طاقت بھی اچھی پیدا ہوئی اور وہ اچھی طرح گفتگو بھی کرنے لگیں۔۲۲