حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 215 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 215

مارشاہ صاحب باب ہفتم۔۔مہارت رکھتی ہو، وہ اپنے خاندان کی عورتوں میں ان کے باہمی تنازعات کا یا دیگر امور خانہ کا جو مردوں کے تصفیہ کے قابل نہ ہوں تصفیہ کیا کرے اور باقی مستورات اس کے حکم کے ماتحت چلیں اور اس سے عزت اور ادب کی نگاہ سے پیش آویں۔گو اس میری وصایا اور نصایا میں بظاہر سب سے پہلے میری اولاد مخاطب ہے۔لیکن در حقیقت اس کی اشاعت مخلوق الہی میں سے مومنان (دین حق ) بھی مخاطب ہیں۔اگر ممکن و مناسب ہو تو اس کی اشاعت کی جائے۔شاید کوئی سعید روح اس سے مستفیض ہو کر میرے حق میں دعا کرے اور اس کی دعا میری نجات و مغفرت اور ترقی قرب الہی کا موجب ہو جاوے۔آمین۔رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (سورۃ البقرہ: ۱۲۸ ) اس وصیت کو حفاظت سے بطور تبرکات بزرگان اپنے پاس رکھو۔اور نسل به نسل اس پر کار بند ہونے کی وصیت اپنی اولاد کو پوری تاکید سے کی جاوے اور کسی عمدہ مضبوط کاغذ و خط میں جو کہ عرصہ تک محفوظ رہ سکے، اس کی نقل بھی رکھی جائے۔میں نے اس وصیت کو دعا سے شروع کیا تھا اور اب دعا پر ہی اس کو ختم کرتا ہوں۔مُرادِ ما نصیحت بود حوالت با خدا کردیم و رفتیم بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ * الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العَلَمِينَ۔الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ O مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ O إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ٥ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ٥ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ لا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ أَمِينِ (سورۃ فاتحہ ) اے ربّ العالمین میں اپنی اولاد کو جو نسلاً بعد نسل میرے خاندان سے ہوں۔صرف تیرے ہی حوالے کرتا ہوں۔تو ہی ان کا کفیل و حامی و ناصر و کافی و نعم المولیٰ ہونا۔ان کی ذریت میں سے تاقیامت مامور، مرسل، نبی، صدیق، شہداء اور ہمارا مقصد تو نصیحت کرنا تھا جو ہم نے کر دی اب ہم آپ کو حوالہ خدا کر کے رخصت ہوتے ہیں۔مرتب ۲۱۷