حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 11 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 11

مارشاہ صاحب باب اول۔۔۔۔۔ابتدائی حالات چاہتا ہوں اگر تمہارا ولی اللہ (حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ) ان کی دعا سے اچھا ہو جائے تو میں سمجھ لوں گا کہ آپ نے مرشد کامل کی بیعت کی ہے اور اس کا دعوی سچا ہے۔اس وقت میرے لڑکے ولی اللہ کی ٹانگ ضرب کے سبب خشک ہو کر چلنے کے قابل نہیں رہی تھی۔وہ ایک لاٹھی بغل میں رکھتا تھا اور اس کے سہارے چلتا تھا۔اور اکثر دفعہ گر پڑتا تھا۔پہلے کئی ڈاکٹروں اور سول سرجنوں کے علاج کئے گئے تھے لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا تھا۔مرشد صاحب والی بات کے تھوڑے عرصہ بعد ایک نیاسر جن میجر ہو کر سیالکوٹ میں آ گیا۔جب وہ رعیہ کے شفاخانہ کے معائنہ کے لئے آیا تو ولی اللہ کو میں نے دکھایا تو اس نے کہا یہ علاج سے اچھا ہو سکتا ہے لیکن تین دفعہ آپریشن کرنا پڑے گا۔چنانچہ اس نے ایک آپریشن سیالکوٹ میں اور دو آپریشن میرے رعیہ کے ہسپتال میں کئے۔ادھر میں نے حضرت صاحب (علیہ السلام) کی خدمت میں دعا کے لئے بھی تحریر کیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ بالکل صحت یاب ہوگیا۔تب میں نے اپنے پہلے مرشد کو کہا کہ دیکھئے خدا کے فضل سے حضرت صاحب (علیہ السلام) کی دعا کیسی قبول ہوئی۔اس نے کہا کہ یہ تو علاج سے ہوا ہے۔میں نے کہا کہ علاج تو پہلے بھی تھا۔لیکن اس علاج میں شفا صرف دعا کے ذریعہ حاصل ہوئی ہے“۔(سیرۃ المہدی حصہ سوم روایت نمبر ۹۲۶) غلام آقا کے دربار میں ۲ اگست ۱۹۰۳ء کو قادیان دارلامان میں حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب۔اپنی رخصت ختم ہونے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کی کہ میں صبح جاؤں گا۔فرمایا خط وکتابت کا سلسلہ قائم رکھنا چاہیے“۔