حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 207 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 207

رشاہ صاحب باب ہفتم۔۔نَفْسِی۔انسان کا خاصہ فطرتی اور امر ربی ہے۔اس کے متعلق عارفانِ الہی کا یہ قول ہے۔عاصیان از گناه توبه کنند عارفایی از عبادت استغفار عذر تقصیر خدمت آوردم که ندارم بطاعت استظهار* اپنے آپ کو ہر ایک سے بد تر جانو اور دوسروں کو اپنے سے نیک اور پارسا سمجھو۔یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حکم ہے۔حضرت سعدی بھی یہی فرماتے ہیں۔ے۔مرا پیر دانائے مُرشد شہاب دو اندرز فرموده بر روئے آب یکے آنکه برخویش خود بین مباش دوم آنکه برغیر بد میں مباش * ** حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تمام ( رفقاء ) واہل بیت کا ادب و لحاظ ایسا ہی دل و جان و اخلاص سے کرتے رہو۔جیسا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت واصحاب کا کرتے ہو۔کیونکہ یہ سب مظہر رسول اکرم ﷺ ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ کرتے رہو اور ان کی وصایا اور تمام احکام ونصائح کی پابندی فرض سمجھو اور سلسلہ احمدیہ کی ( دعوۃ ) سے ایک دم غافل نہ ہو۔کیونکہ آج عند اللہ مقبول اور خوش کن امرا گر عبادات وطاعت میں سے ہے تو یہی ہے۔باقی سب اطاعات و عبادات اس کے نیچے ہیں۔زہے خوش قسمت لوگ جو (مربی) دین ہیں۔خصوصاً وہ (مربی) جنہوں نے اپنی * گناہ گار عبادت کے ذریعہ سے گناہ سے تو بہ کرتے ہیں اور عارف لوگ عبادت سے مغفرت طلب کرتے ہیں اطاعت کے بہ تکلف اظہار سے وہ فرض ادا نہیں ہوسکتا جو گناہ کے اعتراف سے ہوتا ہے۔* * میرے دانا پیرومرشد شہاب نے یہ فرمایا ہے کہ دو طرح سے رونق پیدا ہوتا ہے۔ایک یہ کہ خود پسندی نہ پیدا ہو اور دوسرے یہ کہ دوسرے کو بُرا نہ خیال کرو۔(مرتب)