حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 198
رشاہ صاحب باب ہفتم۔۔فک کرا لے * اور یہ مکان پختہ بنوائے اور چاہ کے پاس ایک چھوٹی سی ( بیت ) بنوا کر ایک حافظ احمدی مخلص جس کو تنخواہ یا خرچ مل کر دیا جائے ، اذان کیلئے اور محافظت مکان کیلئے مقرر کرو۔شاید وہاں سیہالہ میں احمدیت کا بیج بویا جائے اور یہ مکان اور چاہ وزمین بطور یادگار والدین اور بیت الدعاء اور استجابت دعا کیلئے ہمیشہ آبادر ہے۔تا کہ آئندہ اولاد اس سے مستفیض رہے اور اس سیہالہ میں ( دعوۃ ) احمدیت کیلئے کوشش کرتے رہیں کہ ان لوگوں نے میری اور میرے والدین کی اور دیگر اقرباء اور میرے خاندان کی بہت خدمات کی ہیں۔اور ہم ان کے ممنونِ احسان ہیں۔هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ ( سورة الرحمن : ۶۱ ) کو مد نظر رکھتے ہوئے بھی ، اور ماسوا اس کے کل مخلوق کو ( دعوۃ ) احمدیت کا پہنچانا ایک فرض قطعی ہے۔اس لئے ان لوگوں میں خصوصاً ( دعوۃ ) احمدیت کیلئے سعی بلیغ اور دعاؤں سے کام لینا ہمارے ذمہ فرض واجب ** ہے۔میرے مرحوم والدین و دیگر اقرباء کا جو قبرستان ہے۔اور اس کے گرد جو چار دیواری خام ہے، اس کو پختہ بنایا جائے۔اور اس کے قریب جو ایک بن چھوٹی سی ہے اس کو ایک پختہ چھوٹے سے تالاب کی شکل پر بنوایا جائے تا کہ اس سے مال مویشی اور دیگر انسانی ضروریات پوری ہوتی رہیں اور یہ ایک یادگار بطور صدقہ جاریہ و ثواب دارین ہوگی۔جو تمہارے والدین اور اجداد گذشتہ مدفون قبرستان سیہالہ کے لئے ان کی ترقی درجات کا موجب رہے گی۔اگر تم (میں) سے ایک بھائی ایسے اخراجات کا متحمل نہ ہو سکے تو تم سب مل کر اس * بھائی سید حبیب اللہ شاہ صاحب نے مذکورہ بالا زمین آپ کی زندگی میں ہی فک کرائی تھی جس پر آپ نے اسے ان کے نام ہبہ کر دیا ہے۔زین العابدین ولی اللہ شاہ ** حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنی اس خواہش کا اظہار ہمیشہ بے قراری سے فرماتے رہے ہیں اور سیہالہ سے وابستگی کے لئے تائید بھی اسی غرض سے کیا کرتے تھے۔کہ شاید اس سے اس علاقہ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے شناخت کرنے کا موقع ملے۔زین العابدین ولی اللہ شاہ ۲۰۰