حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 179
ارشاہ صاحب باب ششم۔۔۔۔۔ذکره جہاں تک مجھے یاد ہے مسہل دینے کی بھی ہدایت فرمائی۔جس وقت یہ ہدایات دی گئیں۔میں موجود نہ تھا لیکن مندرجہ ذیل ( رفقاء) ہدایات لینے کے معأبعد بورڈنگ میں آئے۔اور ہمارے سامنے حضور کی ان ہدایات کا ذکر کیا۔اور انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ حضور علیہ السلام نے ایک حدیث بیان کی ہے۔کہ جو شخص بیمار کی خدمت کرتا ہے۔اللہ تعالی اس کو اس بیماری سے محفوظ رکھتا ہے۔گویا یہ حدیث بیان کر کے حضور علیہ السلام نے یہ تلقین فرمائی کہ عبدالکریم کی خدمت میں اس خوف سے کسی قسم کی کمی نہ کی جائے کہ اسے باؤلے کتے نے کاٹا ہے۔چنانچہ حضور علیہ السلام کا یہ ارشادسن کر طلباء میں سے سب سے پہلے میں نے اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے پیش کیا۔خواجہ عبدالرحمن صاحب نے بھی میرے ساتھ ہی اپنے آپ کو پیش کیا۔خواجہ صاحب میرے ہم جماعت تھے۔چنانچہ ہمیں دوسرے دن صبح سے شام تک عبدالکریم کی نگرانی اور خدمت کے لئے رکھا گیا۔عبدالکریم سید محمدعلی شاہ صاحب مرحوم کے چوبارہ میں ٹھہرایا گیا تھا مجھے یاد ہے کہ جو نبی اسکی طرف سے کوئی ایسی حرکت سرزد ہوتی یا آواز آتی۔میں اور خواجہ صاحب دونوں گھبرا اُٹھتے۔اور پیشتر اس کے کہ اس کی طرف سے کوئی حملہ ہوتا ہماری نظریں سیڑھی کے دروازہ کی طرف ہوتیں کہ وقت پر اس کے کاٹنے سے محفوظ ہو جائیں شام کے قریب عبد الکریم نے مجھے دیکھا چونکہ اس کے دل میں میری عزت تھی مجھے دیکھ کر پہچانا۔اور نرم آواز سے کہا کہ شاہ صاحب آپ میرے قریب آجا ئیں ڈریں نہیں مجھے آگے سے آرام ہے چنانچہ ہم دونوں اس کے پاس گئے اور اس سے باتیں کیں۔ان دنوں کسولی عبد الکریم کے علاج کے لئے تار * بھی دیا گیا تھا۔مجھے یاد ہے وہاں سے جواب آیا تھا Sorry! Nothing can be done for Abdul Karim۔میرے بھائی میجر ڈاکٹر حبیب اللہ شاہ صاحب جب میڈیکل کالج * کسولی سے جو تار آیا تھا اس تار کی کاپی خلافت لائبریری ربوہ میں محفوظ ہے۔مرتب IN