حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 164
ناہ صاحب باب ششم۔۔۔۔۔ذکره کی ناراضگی کا خیال کرتی تھیں۔اور بیعت سے رکی ہوئی تھیں۔اس اثناء میں وہ خود سخت بیمار ہو گئیں اور تپ محرقہ سے حالت خراب ہوگئی ان کی صحت یابی کی کچھ امید نہ تھی۔میں نے ان سے کہا کہ آپ اپنے برادر زادہ شیر شاہ کو جو وہاں پڑھتا تھا۔قادیان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں دعا کے لئے اور مولوی نورالدین صاحب اللہ ان۔راضی ہو ) کی خدمت میں کسی نسخہ حاصل کرنے کے لئے روانہ کردو۔امید ہے کہ خداوند کریم صحت دے گا۔چنانچہ اس کو روانہ کر دیا گیا۔اور وہ دوسرے دن قادیان پہنچ گیا اور حضرت صاحب کی خدمت میں درخواست دعا پیش کی۔حضور نے اسی وقت توجہ سے دعا کی اور فرمایا کہ میں نے بہت دعا کی ہے اللہ تعالیٰ ان پر فضل کرے گا۔ڈاکٹر صاحب سے آپ جا کر کہیں کہ گھبرائیں نہیں۔خدا تعالیٰ صحت دے گا اور حضرت خلیفہ اول ( اللہ آپ سے راضی ہو) کو فرمایا کہ آپ نسخہ تجویز فرمائیں۔انہوں نے نسخہ تجویز کر کے تحریر فرما دیا۔جس روز شام کو حضور نے قادیان میں دعا فرمائی۔اس سے دوسرے روز شیر شاہ نے واپس آنا تھا۔وہ رات ولی اللہ شاہ کی والدہ پر اس قدرسخت گذری که معلوم ہوتا تھا کہ صبح تک وہ نہیں بچیں گی۔اور ان کو بھی یقین ہو گیا کہ میں نہیں بچوں گی۔اسی روز انہوں نے خواب میں دیکھا کہ شفا خانہ رعیہ میں جہاں میں ملازم تھا۔اس کے احاطہ کے بیرونی طرف سڑک کے کنارے ایک بڑا سا خیمہ لگا ہوا ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ یہ خیمہ مرزا صاحب قادیانی کا ہے۔کچھ مرد ایک طرف بیٹھے اور کچھ عورتیں ایک طرف بیٹھی ہوئی ہیں۔مرد اندر جاتے ہیں اور واپس آتے ہیں پھر عورتوں کی باری آئی وہ بھی ایک ایک کر کے باری باری جاتی ہیں۔جب خود ان کی باری آئی تو یہ بہت ہی نحیف اور کمزور شکل میں پردہ کئے ہوئے حضور کی خدمت میں جا کر بیٹھ گئیں۔آپ نے فرمایا۔آپ کو کیا تکلیف ہے انہوں نے انگلی کے اشارہ سے سینہ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ مجھ کو بخار، دل کی کمزوری اور سینہ میں درد ہے۔آپ نے اسی وقت ایک خادمہ کو کہا کہ ایک پیالہ میں پانی لاؤ۔جب پانی آیا تو آپ نے اس پر دم کیا اور اپنے ہاتھ سے ان کو وہ دیا اور فرمایا۔اس کو پی لیں۔اللہ تعالیٰ شفا دے گا۔پھر سب لوگوں نے اور آپ نے دعا کی اور وہ پانی انہوں نے پی لیا۔پھر والدہ ولی اللہ شاہ نے پوچھا کہ آپ کون ہیں اور اسم شریف کیا ہے۔فرمایا کہ میں مسیح موعود اور مہدی معہود ہوں اور میرا نام غلام احمد ہے اور قادیان ۱۶۶