حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 5 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 5

رشاہ صاح باب اول۔۔۔۔ابتدائی حالات منہمک دیکھ کر کلر سیداں سے موضع سیہالہ چوہدراں میں جو آج کل سٹیشن ہے، چلے آئے تھے۔اس کے قریب ہی ایک گاؤں ناڑ ا سیداں میں ان کے مالکانہ حقوق تھے۔طبابت بھی کرتے تھے۔اس لئے صورت معاش خاطر خواہ تھی۔سلطنت مغلیہ کے ایام میں کلرسیداں ایک مشہور قلعہ تھا۔جس کے تحت سترہ چھوٹے بڑے قلعے مضافات میں تھے۔ایک وسیع علاقہ تھا۔جس کا انتظام سادات کے سپر د تھا۔پانی پت کی تیسری لڑائی میں سادات کر کی فوج اور کہوٹہ کے لگھڑوں تھی فوج نے مرہٹوں کی فوج کے دانت کھٹے کر دیئے تھے۔سکھوں کی عمل داری میں رنجیت سنگھ نے سادات کلر کے ساتھ عہد موالات قائم کیا ہوا تھا۔اور انہوں نے چیلیانوالی کی مشہور لڑائی میں انگریزوں کے خلاف سکھوں کی مدد کی تھی۔جس میں سکھوں اور ان کے مددگاروں کو شکست ہوئی۔انگریزوں نے کلر کا قلعہ تو دہ خاک بنادیا۔اور تمام مملوکہ دیہات سے سادات محروم کر دئیے گئے۔بجز قلعہ کلر اور چند مواضع اراضی کے جس میں موضع ناڑہ سیداں بھی تھا۔جہاں حضرت سید گل حسن شاہ کے مالکانہ حقوق قائم رہے۔خود نوشت سوانح سید ولی اللہ شاہ صاحب غیر مطبوعہ ) خاندان کی یادگاریں ۱۸۹۰ ء کے عشرے میں ضلع راولپنڈی میں سادات خاندان کے ۳۹ گاؤں آباد تھے جن میں دس گاؤں تحصیل راولپنڈی اور کہوٹہ میں ، ( جس میں سیہالہ بھی شامل تھا) اور دو گاؤں تحصیل گوجرخان میں شامل تھے۔( یعنی کلر سیداں اور ناڑاں سیداں )۔سادات خاندان مسلمانوں میں بڑی عزت اور تکریم سے دیکھے جاتے تھے۔لگکھڑ اور جنجوعہ خاندان کے لوگ سادات سے رشتہ استوار کرنے میں فخر سمجھتے تھے تحصیل کہوٹہ ضلع راولپنڈی ۳۳ درجے عرض بلد اور ۷۳ در جے طول بلد پر واقع ہے۔اور سطح سمندر سے اس کی بلندی * گکھڑوں کی تاریخ کے لئے دیکھئے, 1907 Gazetteers of Rawalpindi District by Punjab Govt۔, Lahore: Punjab Govt۔, 1909۔pp 38-46