حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 147
مارشاہ صاحب باب چہارم۔۔۔۔۔حضرت ام طاہر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی خدا سے پیاری پیاری باتوں کا ذکر چھیڑ دیتیں بھی حضرت ابراہیم کی کافروں کے ساتھ ہمدردی بیان کرتیں اور حضرت ابراہیم کا باوجود باپ کے بت فروش ہونے کے ان کو ایک بیکار چیز بیان کرنا اور ان کو خریدنے سے لوگوں کو منع کرنا یہ سب کچھ بہت شوق اور محبت سے بیان کرتی تھیں۔جس سے ثابت ہوتا تھا کہ امی کو خدا کے پیاروں سے کتنی محبت ہے۔حضرت امام جماعت احمدیہ سے محبت اس طرح ابا جان سے بھی امی کو بہت زیادہ محبت تھی۔اور اگر چہ اس کا اظہار میرے سامنے کرنا مناسب نہ سمجھتی تھیں۔مگر بعض اوقات وفور محبت سے امی کے منہ سے ایسی بات نکل ہی جاتی تھی جس سے ابا جان کی محبت کا اظہار ہو۔امی ابا جان کی رضا کو اس قدر ضروری خیال کرتی تھیں کہ بعض دفعہ بالکل چھوٹی چھوٹی باتوں پر جن کی طرف ہمارا خیال بھی نہ تھا۔امی نظر رکھتی تھیں۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں نے مچھلی کے شکار کو جانا چاہا۔سب تیاری وغیرہ مکمل کر لی۔بس صرف ابا جان سے پوچھنے کی کسر باقی رہ گئی۔میں نے امی سے کہا کہ مجھے ابا جان سے اجازت لے دیں کیونکہ اور لوگوں کی طرح ہم بھی اپنے ابا جان سے متعلق کام امی کے ذریعہ ہی کرایا کرتے تھے۔امی نے پوچھا مگر ابا جان نے جواب دیا کہ تم کل جمعہ میں وقت پر نہیں پہنچ سکو گے۔مگر میں نے وعدہ کیا کہ ہم ضرور وقت پر پہنچ جائیں گے۔جس پر ابا جان نے اس شرط پر اجازت دے دی۔امی نے اجازت تو لے دی۔مگر باہر آ کر مجھے کہا کہ طاری میں تمہارے ابا جان کی طرف سے محسوس کرتی ہوں کہ تمہارے ابا جان نے اجازت دل سے نہیں دی۔میں نہیں چاہتی کہ تم اپنے ابا جان کی مرضی کے خلاف کوئی کام کرو۔تم میری خاطر سے آج شکار پر نہ جاؤ۔کسی اور دن چلے جانا اگر چہ سب سامان مکمل تھا۔مگر امی نے مجھے کچھ اس طرح سے کہا کہ میں انکار نہ کر سکا اور اپنے باقی ساتھیوں سے کوئی بہانہ کر کے اس ٹرپ کا ارادہ چھوڑ دیا۔امی نے حضرت صاحب پر ایک رنگ میں جان بھی فدا کر دی۔کیونکہ حضرت صاحب کی ہر بیماری میں اس جانفشانی سے خدمت کی کہ حضرت صاحب کے صحت یاب ہوتے ہی خود بیمار ہوگئیں۔میں ان کو ہر بیماری میں کمزور سے کمزور ہوتے دیکھتا اور یوں محسوس کرتا کہ یہ بیماریاں امی ۱۴۹