حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 132 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 132

شاہ صاحب باب چہارم۔۔۔۔۔حضرت ام طاہر اس یقین سے گھر میں گھستا تھا کہ مریم کا چہرہ چمک رہا ہوگا اور وہ جاتے ہی تعریفوں کے پل باندھ دیں گی۔اور کہیں گی کہ آج بہت مزہ آیا اور یہ میرا قیاس شاذ ہی غلط ہوتا تھا۔میں دروازے پر انہیں منتظر پاتا۔خوشی سے ان کے جسم کے اندر ایک تھر تھراہٹ پیدا ہورہی ہوتی تھی۔بچوں سے محبت اور رشتہ داروں سے حسنِ سلوک میری مریم کو میرے رشتہ داروں سے بہت محبت تھی۔وہ ان کو اپنے عزیزوں۔زیادہ پیار کرتی تھی۔میرے بھائی میری بہنیں میرے ماموں اور ان کی اولاد میں بے حد عزیز تھے۔ان کی نیک رائے کو وہ بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھیں اور اس کے حصول کے لئے ہرممکن کوشش کرتی تھیں۔حضرت (اماں جان اللہ آپ سے راضی ہو ) کی خدمت کا بے انتہا شوق تھا۔اوّل اوّل جب آپ کے گھر میں رہی تھیں تو ایک دو خادمہ سے ان کو بہت تکلیف تھی۔اس وجہ سے ایک دو سال حجاب رہا مگر پھر یہ حجاب دور ہو گیا۔ہمارے خاندان میں کسی کو کوئی تکلیف ہو سب سے آگے خدمت کرنے کو مریم موجود ہوتی تھیں اور رات دن جاگنا پڑے تو اس سے دریغ نہ ہوتا تھا۔بچوں کی ولادت کے موقعہ پر شدید بیماری میں مبتلا ہونے کے باوجود زچہ کا پیٹ پکڑے گھنٹوں بیٹھتیں اور اف تک زبان پرنہ آنے دیتیں۔سارہ بیگم کی وفات کے بعد ان کے بچوں سے ایسا پیار کیا کہ وہ بچے ان کو اپنی ماں کی طرح عزیز سمجھتے تھے۔باہمی رقابت صرف سارہ بیگم کی وفات تک رہی۔انتہا درجہ کی مہمان نواز وہ مہمان نواز انتہا درجہ کی تھیں ہر ایک کو اپنے گھر میں جگہ دینے کی کوشش کرتیں اور حتی الوسع جلسہ کے موقعہ پر بھی گھر میں ٹھہرنے والے مہمانوں کا لنگر سے کھانا نہ منگوا تیں۔خود تکلیف اٹھا تیں۔بچوں کو تکلیف دیتیں لیکن مہمان کو خوش کرنے کی کوشش کرتیں۔بعض دفعہ اپنے پر اس قدر بوجھ لادیتیں کہ میں بھی خفا ہوتا کہ آخر لنگر خانہ اسی غرض کے لئے ہے تم کیوں اپنی صحت برباد کرتی ہو۔آخر تمہاری بیماری کی تکلیف مجھے ہی اٹھانی پڑتی ہے مگر اسبارہ میں کسی نصیحت کا ان پر اثر نہ ہوتا۔کاش اب جبکہ وہ اپنے رب کی مہمان ہیں۔ان کی مہمان نوازیاں ان کے کام آجائیں۔اور وہ کریم میزبان اس وادی ۱۳۴