حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 119
رشاہ صاحب باب چہارم۔۔۔۔۔حضرت ام طاہر ہے۔بظاہر تعبیر موت معلوم ہوتی تھی۔تاہم معبرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر خواب کو ظاہری صورت میں پورا کر دیا جائے تو بعض دفعہ تعبیر مل جاتی ہے۔اس موقعہ پر ہمارے پیارے مہدی سیدنا حضرت مسیح موعود نے کیا احسن انتظام فرمایا اور اس کے کیا ثمرات مترتب ہوئے ، اس کے بارے میں حضرت سیدنا مصلح الموعود اللہ آپ سے راضی ہو ) فرماتے ہیں :- دنیا میں بعض اعمال بظاہر متفرق کڑیاں معلوم ہوتے ہیں اور بعض اعمال ایک زنجیر کی طرح چلتے ہیں۔آج جس واقعہ کا میں ذکر کرتا ہوں۔وہ بھی اسی زنجیر کی قسم کے واقعات میں سے ہے۔آج سے ۳۸ سال قبل ایک واقعہ یہاں ہوا ہے۔ہمارا ایک چھوٹا بھائی تھا۔جس کا نام مبارک احمد تھا۔اس کی قبر بہشتی مقبرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار کے مشرق کی طرف موجود ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وہ بہت پیارا تھا۔مجھے یاد ہے جب ہم چھوٹے ہوتے تھے۔ہمیں مرغیاں پالنے کا شوق پیدا ہوا۔کچھ مرغیاں میں نے رکھیں کچھ میر محمد اسحاق صاحب مرحوم نے رکھیں۔اور کچھ میاں بشیر احمد صاحب نے رکھیں۔اور بچپن کے شوق کے مطابق مقابلہ ، ہم ان کے انڈے جمع کرتے۔پھر ان سے بچے نکالتے۔یہاں تک کہ سو کے قریب مرغیاں ہو گئیں۔بچپن کے شوق کے مطابق صبح ہی صبح ہم جاتے اور مرغیوں کے دڑبے کھولتے۔انڈے گنتے اور پھر فخر کے طور پر ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے کہ میری مرغی نے اتنے انڈے دیئے ہیں اور میری نے اتنے۔ہمارے اس شوق میں مبارک احمد مرحوم بھی جا کر شامل ہو جاتا۔اتفاقا ایک دفعہ وہ بیمار ہو گیا۔اس کی خبر گیری سیالکوٹ کی ایک خاتون کرتی تھیں۔جن کا عرف دادی پڑا ہوا تھا۔ہم بھی اسے دادی ہی کہتے اور دوسرے سب لوگ بھی۔حضرت خلیفہ اول (اللہ آپ سے راضی ہو ) اسے دادی کہنے پر بہت چڑا کرتے تھے۔۔۔اس لئے آپ بجائے دادی کے انہیں جگ دادی کہا کرتے تھے۔جب مبارک احمد مرحوم بیمار ہوا۔تو دادی نے کہہ دیا کہ یہ بیمار اس لئے ہوا ہے کہ مرغیوں کے پیچھے جاتا ہے۔جب حضرت ۱۲۱