حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 117
ارشاہ صاحب باب چہارم حضرت ام طاہر اس لڑکی کا رشتہ ہمارے ہی گھر میں ہو تو اچھا ہے! حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہش اور اس کی مقبولیت روز نامه الفضل قادیان نے آپ کے وصال پر تحریر کیا:۔حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو) کی دختر نیک اختر تھیں۔آپ کا نام مریم بیگم تھا۔آپ سے فروری ۱۹۲۱ ء کو حضرت امیرالمومنین خلیفتہ المسیح الثانی (اللہ آپ سے راضی ہو) کے عقد میں آئیں۔سیدہ مرحومہ مغفورہ کا رشتہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پہلے حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب سے کیا تھا۔مگر جب وہ اللہ تعالیٰ کے الہامات کے مطابق وفات پاگئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ خواہش ظاہر فرمائی۔کہ اس لڑکی کا رشتہ ہمارے ہی گھر میں ہو تو اچھا ہے۔حضور کی اس خواہش کے احترام کے طور پر حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی (اللہ آپ سے راضی ہو) نے انہیں اپنے حرم میں داخل فرمایا۔اور خدا کے فضل اور حضور کی تربیت سے آپ جماعت احمدیہ کے خصوصاً طبقہ نسواں کے لئے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوئیں۔دینی خدمات سرانجام دینے کے لئے خواتین کی تنظیم کرنے اور ان میں بیداری پیدا کرنے کے لئے آپ نے اپنی زندگی وقف کر دی۔اور وہ وہ خدمات سرانجام دیں جن کا ذکر تاریخ سلسلہ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کی زمام حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ کے ہی ہاتھ میں تھی۔اور انہی کی سرگرمی اور روح عمل کا یہ نتیجہ ہے کہ آج خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدی خواتین دینی امور میں بیش از پیش حصہ لے رہی ہیں۔اہم دینی خدمات سرانجام دینے کے علاوہ آپ قادیان کے ہر چھوٹے بڑے امیر و غریب کی خوشی اور رنج میں بذات خود شرکت فرما تیں۔خوشی کی تقریب میں اپنے مبارک وجود اور شیریں کلامی سے کئی گنا اضافہ فرما دیتیں۔اور رنج کے موقعہ پر اپنے نہایت ہی ہمدردانہ اور مشفقانہ کلام سے اس کی تلخی کو دور کر دیتیں۔آپ کا در ہر رنجیدہ اور مصیبت زدہ کے لئے ہر وقت کھلا رہتا۔آپ کے ہاں عورتوں کا تانتا لگا رہتا۔کسی کوممکن امداد دینے سے کبھی دریغ نہ فرماتیں۔ایسے نافع الناس اور قیمتی وجود کی وفات جماعت کے لئے جس قدر افسوس ناک ہے الفاظ اسے بیان کرنے سے قاصر ١١٩