حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 112 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 112

مارشاہ صاحب۔۔۔۔۔۔اولاد باب سوم۔۔۔۔۔۔۔معائنہ کروانا تھا۔مجھے انہوں نے بتایا کہ جس ڈاکٹر سے میں علاج کروا ر ہا تھا۔اس نے بھی مشرقی افریقہ ہی میں تعلیم پائی تھی۔نسیم نے اس ڈاکٹر سے میرا ذکر کیا تو اس کو میری نسبت پتہ تھا کہ میں کون ہوں اور حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب کے ساتھ میرا رشتہ کیا ہے پھر اس نے فورا نسیم سے پوچھا کہ تم کس کے بیٹے ہو اور پھر سید محموداللہ شاہ صاحب کا پوچھا۔چنانچہ وہ ان کا علاج کرتا رہا۔وہاں علاج بہت مہنگا ہے اس لئے کم از کم سینکڑوں پونڈ اسکی فیس بننی چاہیے تھی۔لیکن ایک آنہ بھی نہیں لیا۔اور بڑا اصرار کیا کہ اس بات کا ذکر بھی نہ کرو۔تم میرے ایسے استاد کے عزیز ہو جس کے احسانات کو میں کبھی بھول نہیں سکتا۔خلیق انسان اپنے پیچھے بڑے گہرے اثرات چھوڑتا ہے اور بڑے وسیع اثرات چھوڑتا ہے۔اسی وجہ سے ان کی ( دعوۃ الی اللہ ) میں بڑا اثر تھا۔ان کے ذریعہ بعض ایسے لوگ بھی احمدی ہوئے جو اس سے پہلے احمدیت کے شدید معاند تھے۔لیکن پھر احمدیت میں آکر عشق الہی اور مذہبی خلوص میں غیر معمولی ترقی کی۔انہی میں سے ایک ہمارے محمد اکرم صاحب غوری ہیں جواب لنڈن میں جماعت کے سیکرٹری کے فرائض انجام دیتے ہیں۔غوری صاحب اور ان کا خاندان، حضرت سیدمحمود اللہ شاہ صاحب کی ( دعوۃ الی اللہ ) ہی سے احمدی ہوا تھا۔( دعوۃ الی اللہ ) بعد میں ہوئی۔پہلے ان کے حسن اخلاق سے متاثر ہو کر انہوں نے احمدیت میں دلچسپی لینی شروع کی۔اس لئے میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس خاندان میں اگلی نسلوں میں بھی یہ نیکیاں جاری اور قائم رکھے گا۔ہمیں یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے آباؤ اجداد کی نیکیوں کی نسلاً بعد نسل حفاظت کی توفیق بخشے بلکہ نیکیوں میں آگے بڑھنے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یہ نکاح جس کا میں اعلان کرنے لگا ہوں عزیزہ مکرمہ در مشین سلمہا اللہ تعالیٰ کا ہے جو مکرم محمد امین صاحب اوکاڑہ کی بیٹی ہیں۔ان کا نکاح سید محمود اللہ شاہ صاحب ابن مکرم سید مسعود مبارک شاہ صاحب ساکن ربوہ کے ساتھ دس ہزار روپے حق مہر پر قرار پایا ہے“۔ایجاب وقبول کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس رشتہ کے بہت ہی بابرکت اور مثمر ثمرات حسنہ ہونے کے لئے حاضرین سمیت دعا کرائی۔(روز نامه الفضل ربوه ۲ مارچ ۱۹۸۳ء) ۱۱۴