حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 100 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 100

مارشاہ صاحب سوم۔۔۔۔۔۔اولاد باب۔۔۔۔۔۔۔ہو) کے ساتھ رہنے کی وجہ سے سلسلہ احمدیہ سے بخوبی واقف تھے اور معلوم ہوتا تھا کہ شاہ صاحب کے بھائی میجر ڈاکٹر سید حبیب اللہ شاہ صاحب اور جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو ) سے بھی اچھی طرح واقف تھے۔اس گواہ نے بیان کیا کہ یہ خط کسی عام دوست یا رشتہ دار کو نہیں بلکہ حضرت امام جماعت احمدیہ کولکھا گیا ہے جن کے متعلق احمدیوں کا اعتقاد ہے کہ ان کی دعا سارے جہاز کی حفاظت کا موجب ہوسکتی ہے۔حکومت کی نظر میں یہ جماعت نہایت وفادار اور قابل احترام ہے۔صرف یہی واحد جماعت ہے جس نے من حیث الجماعۃ اس جنگ میں امداد دی ہے۔ماتحت عدالت اور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلوں میں تسلیم کیا کہ دوران جنگ شاہ صاحب نے حکومت کی مدد کی ہے۔اور یورپین اور ہندی اقوام میں اس کا چر چاہے اور یہ کہ شاہ صاحب کا کیریکٹر ہر داغ سے مبرا ہے۔اور جماعت احمد یہ وفا دار ہے۔اس کے باوجود قانونی لحاظ سے اپیل مسترد ہوئی۔اس دن حضرت سید صاحب ( بیت) میں تشریف نہ لائے جہاں باوجود علالت و نقاہت کے آپ کی حاضری یقینی ہوتی ہے۔(اس عدم حاضری کی وجہ سے ) احباب جماعت کی حالت اس امر کی آئینہ دار تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت سے کس درجہ اخوت احمدی (جماعت) میں رکھ دی ہے۔میری زبان پر حضرت سیدہ نواب مبار که بیگم صاحبہ (اللہ آپ سے راضی ہو ) کے دو شیعر بار بار آتے تھے صرف فرق یہ تھا کہ ( دارالامان ) کی بجائے مدنظر ( بیت ) احمد یہ نیروبی تھی۔سب تڑپتے ہیں کہاں ہے زینت دارالامان رونق بستان احمد دلر بائے قادیان جان پڑ جاتی تھی جن سے وہ قدم ملتے نہیں قالب بے روح سے ہیں کوچہ ہائے قادیاں ہز ایکسیلنسی گورنر صاحب کینیا کالونی کے پاس اپیل کی گئی۔احمد یہ وفد کی ملاقات کے وقت چیف سیکرٹری اور اٹارنی جنرل بھی موجود تھے۔گورنر صاحب کا رویہ بہت