حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 76
مارشاہ صاحب احباب قریہ سے باہر تک گئے۔۔۔۔۔۔۔اولاد باب سوم۔۔۔۔(الفضل قادیان۳۰ جولائی ۱۹۱۳ صفحہ۱ ) ۱۹۱۳ء تا ۱۹۱۹ ء تک آپ بلا دعر بیہ میں حصول تعلیم کے لئے مقیم رہے۔اور قاہرہ، حلب سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔بیت المقدس میں امتحان میں آپ اعلیٰ نمبروں۔کامیاب ہوئے۔اور وہاں بعض کا لجز میں تعلیم و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔خدمات عالیہ محترم ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے آپ کی خدمات کی بابت لکھتے ہیں :- جنگ عظیم اول کے بعد آپ ۱۹۱۹ء میں بیرون ملک سے وطن واپس پہنچے۔ابتداء میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو) کے عرصہ رخصت میں قائم مقام ناظر امور عامہ اور پھر ۱۹۲۰ ء تا یکم جون ۱۹۵۴ء ناظر (اصلاح وارشاد)، ناظر امور عامه و خارجه، ناظر تعلیم و تربیت، قائم مقام ناظر اعلیٰ اور ایڈیشنل ناظر اعلیٰ کے اعلیٰ مناصب پر آپ مختلف اوقات میں فائز رہے۔یکم جون ۱۹۵۴ء کو پنشن پانے کے بعد بھی آپ ناظر امور خارجہ مقرر رہے۔ان تمام فرائض کو خوش اسلوبی سے سرانجام دیتے اور صحیح البخاری کی شرح تالیف کرنے کی آپ نے توفیق پائی۔تقسیم ملک کے دوران میں حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم اے، حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب ( جو ناظر امور عامہ تھے )، چوہدری شریف احمد باجوہ مولوی احمد خان صاحب نسیم اور مولوی عبدالعزیز صاحب بھا مبرڑی کو تقسیم برصغیر کے پرفتن دور میں ۱۴ ستمبر ۱۹۴۷ ء تامئی ۱۹۴۸ء فی سبیل اللہ قید و بند کا اعزاز حاصل ہوا۔تابعین احمد جلد سوم، با رسوم صفحه ۳۲-۳۳) بطور مجاہد شام تقر ر و روانگی۔سفر یورپ میں ۱۹۲۴ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اپنے وفد سمیت اگست میں چند روز دمشق میں قیام فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کر کے رجوع خلائق کا LA