حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 49
نشاہ صاحب باب دوم۔۔سیرت و اخلاق سعادت مند نوجوان حافظ قرآن ان مریضوں کی یہ خدمت کیا کرتے تھے۔یہ خدمت نفس کو قابو میں رکھنے کے لئے کافی سے زیادہ ہے اور خودی اور خود پسندی کا کچھ بھی باقی نہیں رہ جاتا۔(روز نامه الفضل ربوه ۱۰ جنوری ۱۹۶۹، صفحه ۳) خدمت خلق کے عجیب نظارے محترم میاں عطاء اللہ صاحب ایڈووکیٹ مرحوم سابق امیر جماعت احمد یہ راولپنڈی حضرت شاہ صاحب کے خدمت خلق کی بابت تحریر کرتے ہیں:۔ملازمت سے ریٹائر ہو کر حضرت شاہ صاحب نور ہسپتال میں مفت کام کرتے تھے اور ان کا رتبہ بلند قادیان دارلامان کے ہر کس و ناکس کو معلوم تھا لیکن ان کی نظر انتخاب اپنی رفاقت کے لئے حضرت حافظ محمد ابراہیم صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو ) جو محلہ دارالفضل میں رہتے تھے پر پڑی۔اور یہ نظارہ آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ حضرت شاہ صاحب حضرت حافظ صاحب کا بازو پکڑے انہیں بہشتی مقبرے لے جارہے ہوتے۔آسمان کے فرشتے یہ نظارہ دیکھ کر کس قدر خوش ہوتے ہوں گے کہ حضرت شاہ صاحب کو اپنی دنیوی عزت و وجاہت کا ذرہ برابر بھی خیال نہیں۔اور جہاں روحانی اتحاد میسر آیا وہیں رفاقت پیدا کر لی۔(روز نامه الفضل ربود ۱۰ جنوری ۱۹۶۹ ، صفحه ۳) حسنات دارین کی وجاہتیں محترم میاں عطاء اللہ صاحب ایڈووکیٹ مرحوم سابق امیر جماعت احمد یہ راولپنڈی تحریر کرتے ہیں:- حضرت شاہ صاحب ڈاکٹر تھے اور آپ کی زندگی کا ایک بڑا حصہ رعیہ کے ہسپتال میں گزرا۔آپ کی اولاد دینی اور دنیاوی وجاہت کی مالک تھی۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو ) ۵۱