حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 50
رشاہ صاحب باب دوم۔۔سیرت و اخلاق ڈاکٹر میجر سید حبیب اللہ شاہ صاحب و حافظ سید عزیز اللہ شاہ صاحب اور سید محمود اللہ شاہ صاحب اور سید عبدالرزاق صاحب آپ کے بیٹے تھے۔ر آپ کی ایک صاحبزادی حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت اصلح الموعود ( اللہ آپ سے راضی ہو ) کی زوجیت کا فخر بخشا اور پھر اُن کی وفات پر آپ کی ایک پوتی محترمہ سیدہ مہر آیا صاحبہ ( بنت سید عزیز اللہ شاہ صاحب مرحوم ) کو یہی سعادت نصیب ہوئی لیکن ان کی دنیوی وجاہت کے ساتھ ساتھ ان کو ایسی تربیت ملی تھی کہ میں جب بھی سوچتا ہوں حیران ہو جاتا ہوں کہ یہ لوگ کیا تھے“ (روز نامه الفضل ربود ۱۰ جنوری ۱۹۶۹ ، صفحه ۳) جن کا وجود سراسر برکت تھا حضرت مولانا شیر علی صاحب حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ کو اپنے تعزیہ نامے میں لکھتے ہیں:۔بخدمت مکرم اخویم سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته حضرت شاہ صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو) کی وفات کا سخت افسوس ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔وہ ایک نہایت ہی پاک نفس انسان تھے۔جن کا وجود سراسر برکت تھا۔ایسے وجود دنیا میں بہت کم نظر آتے ہیں۔ان کی وفات نہ صرف آپ کے لئے اور آپ کے تمام خاندان کے لئے ایک نا قابل تلافی نقصان ہے بلکہ تمام جماعت کے لئے ایک عظیم الشان صدمہ ہے۔وہ ہر ایک کے محسن اور سب کے خیر خواہ تھے۔ان کی برکت سے اور ان کی دعاؤں سے ایک دنیا فیض حاصل کر رہی تھی۔ایک نہایت مبارک وجود ہم سے جدا ہو گیا۔وہ خدا کی رحمت کا سایہ تھے۔خدا تعالیٰ کی رحمتیں ان پر اور ان کے خاندان اور ان کے دوستوں اور محبوں پر ہمیشہ جاری رہیں۔آپ نہایت ہی خوش قسمت تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ۵۲