حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 205 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 205

رشاہ صاحب باب ہفتم۔۔کے اپنے آخری وقت نزاع تک یہ دعا مانگتے رہے۔رَبِّ قَدْ أَعْطَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَى مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ (سورہ یوسف:۱۰۲) یعنی اے رب! زمینی و آسمانی نعمت دنیوی سلطنت و نبوت سے تو نے مجھ کو ممتاز کیا ہے۔اے فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ۔یعنی اے معطی نعماء سماوی وارضی چونکہ اب میں تیرے حضور حاضر ہونے والا ہوں۔اَنْتَ وَلِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ۔(سوره یوسف :۱۰۲) تو ہی میری سب مشکلات اور حاجات دنیوی و آخرت کا متولی رہا ہے اور اس لئے تیرے حضور اے رب میری یہ عرض ہے کہ اب تو ہی میرا خاتمہ بالخیر کیجیو۔وہ یہ کہ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَالْحِقْنِي بالصَّالِحِينَ۔(سورہ یوسف :۱۰۲) حضور میری یہ دو عرضیں ہیں، زیادہ کہیں۔اوّل میری وفات اسلام پر ہو۔دوم میرا الحاق اور ہمسائیگی با صالحین ہو۔یعنی انبیاء وشہداء وغیرہ کے زمرہ میں میرا مکان اور بُو دو باش ہو۔ایسا نہ ہو کسی معمولی مومن و معمولی منعم کی رفاقت ہو، بلکہ اعلیٰ درجہ کے منعم علیہ گروہ میں شمولیت ہو۔آمین۔جب ایک نبی کا یہ حال ہے تو ہم کس شمار میں ہیں۔کیونکہ ذات الہی غنی ، بے پرواہ اور غیور ہے۔جب تک کہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمُ وَرَضُوا عَنْهُ (سورة البيّة : ٩) کا سرٹیفکیٹ بوقت کوچ سفر آخرت حاصل نہ ہو۔تب تک انسان ہمیشہ خطرہ میں ہے۔نصائح اور وصایا اور بہت سی ہیں۔مگر چونکہ یہ وصیت اب طول پکڑ گئی ہے۔ممکن ہے کہ میری نازک دماغ اولاد اس کے پڑھنے کی متحمل نہ ہو سکے۔اس لئے اس کو چند مختصر وصایا اور نصائح پر ختم کرتا ہوں۔وبالله التوفيق۔تم نے اپنی مستقل رہائش ضرور دارلامان میں رکھنی ہوگی۔کیونکہ اب ساری دنیا میں یہی ایک دارالامان ہے۔باقی سب جگہ دنیا میں دارالخوف اور دار الـطـغـيـان والخسران ہے۔کیونکہ یہ نبی کا مولد ومسکن ہے۔اور اس کو ارض حرم فرمایا ہے۔یہ دین کی جگہ اور دارالاسلام ہے۔تمہاری اولاد جو یہاں پیدا ہوگی وہ اس جگہ کے یمن و برکت سے متقی و پارسا اور اہلِ علم و مبلغ دین ہوگی۔اگر یہاں تم سکونت نہ رکھو گے تو تمہاری اولا د دین کی اعلیٰ تربیت سے ۲۰۷