حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 191
شاہ صاحب باب ہفتم۔۔اے میری اولاد میرا موجودہ حالت میں یہ سچا اور بحیح عقیدہ ہے۔وَصِيْتُ بِاللَّهِ تَعَالَى رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا وَّ رَسُولًا وَبِالْقُرْآنِ اِمَامًا - وَبِالْكَعْبَةِ قِبْلَةً وَبِالصَّلوةِ فَرِيضَةً وبِالْمَؤْمِنِينَ إِخْوَانًا وَ بِالصَّدِيقِ وَ بِالْفَارُوقِ وَبِذِى النُّورَيْنِ وَبِالْمُرْتَضَى أَئِمَّةً رِضْوَانُ اللهِ تَعَالَى أَجْمَعِينَ وَبِالْمَسِيحَ الْمَوْعُوْدِ وَالْمَهْدِى الْمَعْهُودِ عَلَيْهِ السَّلَامُ اِيْمَانًا كَامِلًا وَيَقِيْنَا صَادِقًا وَبِالسّلْسِلَةِ الْأَحْمَدِيَّةِ إِخْلَاصاً صَحِيحًا وَّايْمَانًا كَامِلًا وَعَلَى هَذِهِ الشَّهَادَةِ نَحْى وَنَمُوتُ وَعَلَيْهَا نَبْعَثُ إِنْشَاءَ اللَّهُ تَعَالَى وَبِفَضْلِهِ وَ كَرَمِهِ وَ بِرُبُوبِيَّتِهِ وَ رَحْمَتِهِ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔يَا بَنِي! (اے میرے بیٹے ) تم بھی اس عقیدہ پر رہنا۔حَتَّى تَمُوتُنَّ وَ أَنتُم مُّسْلِمُونَ۔جو جو وصیت حضرت یعقوب علیہ السلام و حضرت ابراہیم علیہ السلام و حضرت لقمان علیہ السلام و حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اولا دوغیرہ کیلئے تحریر فرمائی ہیں یا دیگر انبیاء وصلحاء واتقیاء نے کی ہیں۔وہی میں تم کو کرتا ہوں اور اس پر کار بند ہونے کیلئے تاکید کرتا ہوں۔قرآن شریف کو اپنا تم دستور العمل بناؤ اور انتباع سنت کی پیروی اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کی ترقی اور اشاعت ( دین حق ) میں ہمہ تن مصروف رہو۔اور اپنی آئندہ نسلوں کو بھی انہی اُمور کی پابندی کیلئے تیار رکھو اور تم سب اپنی اپنی وصیتیں حسب الحکم (رسالہ الوصیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام) کرتے جاؤ اور اپنے اپنے مکان رہائشی خاص دارالامان قادیان میں بناؤ اور ایک ہی جگہ میں تم سب بھائیوں کے مکانات تیار ہوں۔اور ان سب مکانات کا نام محلہ دار السادات رکھو۔يا بني ! خبر دار تم تفرقہ اور انشقاق اور حسد یا کینہ یا بے اتفاقی با ہمی کی زہریلی ہوا سے سخت پرہیز کرو۔ورنہ اَن تَفْشَلُوا فَتَذْهَبَ رِيحُكُمُ (سورة الانفال: ۴۷) کے ارشاد کے ماتحت تم خدانخواستہ سب ہلاک ہو جاؤ گے،قطع ۱۹۳