حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 158
ناہ صاحب باب ششم۔۔۔۔۔ذکره تربیت خواتین حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب بیان فرماتے ہیں:۔ایک مرتبہ میرے گھر سے یعنی والدہ ولی اللہ شاہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور مرد تو آپ کی تقریر بھی سنتے ہیں اور درس بھی سنتے ہیں۔لیکن ہم مستورات اس فیض سے محروم ہیں۔ہم پر کچھ مرحمت ہونی چاہیے۔کیونکہ ہم اسی غرض سے آئے ہیں کہ کچھ فیض حاصل کریں۔حضور بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے کہ جو بچے طلب گار ہیں ان کی خدمت کے لئے ہم ہمیشہ ہی تیار ہیں۔ہمارا یہی کام ہے کہ ہم ان کی خدمت کریں۔اس سے پہلے حضور نے بھی عورتوں میں تقریر یا درس نہیں فرمایا تھا۔مگر ان کی التجا اور شوق کو پورا کرنے کے لئے عورتوں کو جمع کر کے روزانہ تقریر شروع فرما دی۔جو بطور درس تھی۔پھر چند روز بعد حکم فرمایا کہ مولوی عبد الکریم صاحب ( اللہ آپ سے راضی ہو ) اور مولوی نورالدین صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو) اور دیگر بزرگ بھی عورتوں میں درس دیا کریں چنانچہ مولوی عبد الکریم صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو ) درس کے لئے بیٹھے اور سب عورتیں جمع ہوئیں۔چونکہ ان کی طبیعت بڑی آزاد اور بے دھڑک تھی۔تقریر کے شروع میں فرمانے لگے۔کہ اے مستورات افسوس ہے کہ تم میں سے کوئی ایسی سعید روح والی عورت نہ تھی۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تقریر یا درس کے لئے توجہ دلاتی اور تحریک کرتی۔تمہیں شرم کرنی چاہیے۔شاہ صاحب کی صالحہ بیوی ایسی آتی ہیں جس نے اس کار خیر کے لئے حضور کو توجہ دلائی۔اور تقریر کرنے پر آمادہ کیا تمہیں ان کا نمونہ اختیار کرنا چاہیے۔نیز حضرت خلیفہ اول (اللہ آپ سے راضی ہو ) بھی اپنی باری سے تقریر اور درس فرمانے لگے۔اس وقت سے مستورات میں مستقل طور پر تقریر اور درس کا سلسلہ جاری ہو گیا“۔(سیرۃ المہدی حصہ سوم روایت نمبر ۸۸۲) ۱۶۰