حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 153
مارشاہ صاحب باب پنجم۔۔۔۔اعلام الہی کاظہور حضرت سیدہ مریم النساء بیگم صاحبہ بنت حضرت سید ڈاکٹر عبدالستار شاہ (اللہ آپ سے راضی ہو) کے بطن مقدسہ سے پیدا ہوئے۔اور آج مرجع خلائق ہیں۔خدا تعالیٰ کی عجیب شان ہے۔وہ بسا اوقات اپنے نیک بندوں کی تمنا ئیں ایسے بھی پوری فرماتا ہے جیسا کہ حضرت شاہ صاحب کی ساری تمنائیں پوری فرمائیں۔قرآن کریم کا ایک اسلوب سورۃ آل عمران میں اللہ تعالیٰ نے آل عمران کی خاتون کی ایک عظیم الشان مثال بیان فرمائی ہے۔یہ وہی پاک خاتون تھیں جن کے بطن سے حضرت مریم صدیقہ علیہا السلام نے جنم لیا اور حضرت مریم صدیقہ علیہا اسلام نے حضرت عیسی علیہ السلام کو جنم دیا۔اللہ تعالیٰ سورۃ آل عمران میں فرماتا ہے:۔اذْقَالَتِ امْرَأَةُ عِمْرَانَ رَبِّ إِنِّى نَذَرُتْ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلُ مِنِّي إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ العَلِيمُ ، فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَا لَّا نُثَی وِإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِنِيِّ اعِيدُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ( سورة آل عمران آیات ۳۶ ۳۷) (یاد کرو) جب آل عمران کی عورت نے کہا کہ اے میرے رب! جو کچھ میرے پیٹ میں ہے (اُسے) آزاد کر کے میں نے تیری نذر کر دیا ہے۔پس تو (اسے ) میری طرف سے جس طرح ہو قبول فرما۔یقینا تو ہی بہت سننے والا ( اور ) بہت جاننے والا ہے۔پھر جب اُسے بن کر فارغ ہوئی۔اس نے کہا اے میرے رب ! میں نے تو اسے لڑکی کی شکل میں جنا ہے۔اور جو کچھ اس نے جنا تھا۔اسے اللہ (سب سے) زیادہ جانتا تھا۔(اس کا پینی ) لڑکا (اس) لڑکی کی طرح نہیں ( ہو سکتا )۔اور ( کہا کہ ) میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے۔اور میں اسے او راس کی اولاد کو مردود شیطان کے حملہ ) سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ا ( ترجمه تفسیر صغیر صفحه ۸۳-۸۴)