حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 134 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 134

مارشاہ صاحب باب چہارم۔۔۔حضرت ام طاہر بلایا۔ان کے مشورہ پر انہیں ۱۷ دسمبر کو لاہور لے جایا گیا۔۹،۸ جنوری تک دواؤں سے علاج ہوتا رہا۔مگر آخر اس ڈاکٹر نے یہ فیصلہ کیا کہ آپریشن کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کی رائے اس کے خلاف تھی۔مگر اس کے سوا کوئی چارہ نظر نہ آتا تھا اس لئے میں نے ان سے ہی پوچھا تو ان کا مشورہ آپریشن کا تھا اور اسے ضروری سمجھتی تھیں۔آپریشن کے بعد دل کی حالت خراب ہوگئی۔پھر خون دینے سے حالت اچھی ہوتی گئی۔۲۵ جنوری کو مجھے کہا گیا کہ اب چند دن تک ان کو ہسپتال سے رخصت کر دیا جائے گا۔اور اجازت لے کر چند دن کے لئے قادیان آ گیا۔میرے قادیان جانے کے بعد ہی ان کی حالت خراب ہوگئی اور زخم پھر دوبارہ پورے کا پورا کھول دیا گیا۔مگر مجھے اس سے غافل رکھا گیا۔اور اس وجہ سے میں متواتر ہفتہ بھر قادیان ٹھہرا رہا۔ڈاکٹر غلام مصطفی جنہوں نے ان کی بیماری میں بہت خدمت کی جزاہ اللہ احسن الجزاء انہوں نے متواتر تاروں اور فون سے تسلی دلائی اور کہا کہ مجھے جلدی کرنے کی ضرورت نہیں۔لیکن جمعرات کی رات کو شیخ بشیر احمد صاحب کا فون ملا کہ برادرم سید حبیب اللہ شاہ صاحب کہتے ہیں کہ ان کی حالت خراب ہے آپ کو فوراً آنا چاہیے جس پر میں جمعہ کو واپس لاہور گیا اور ان کو سخت کمزور پایا۔یہ کمزوری ایسی تھی کہ اس کے بعد تندرستی کی حالت پھر نہیں آئی۔۔آخری لمحات بہر حال اب انجام قریب آرہا تھا۔مگر اللہ تعالیٰ پر امید قائم تھی۔میری بھی اور ان کی بھی۔وفات سے پہلے دن ان کی حالت دیکھ کر اقبال بیگم ( جو ان کی خدمت کے لئے ہسپتال میں اڑھائی ماہ رہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں دونوں جہان میں بڑے مدارج عطا فرمائے ) رونے لگیں ان کا بیان ہے کہ مجھے روتے دیکھ کر مریم بیگم محبت سے بولیں۔بچگی روتی کیوں ہو؟ اللہ تعالیٰ میں سب طاقت ہے دعا کر ووہ مجھے شفا دے سکتا ہے۔چار مارچ کی رات کو حضرت میر اسماعیل صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو ) اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو ) نے مجھے بتایا کہ اب دل کی حالت نازک ہو چکی ہے۔اب وہ دوائی کا اثر ذرا بھی قبول نہیں کرتا۔اس لئے میں دیر تک وہاں