حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 121 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 121

ارشاہ صاحب باب چہارم۔۔۔۔حضرت ام طاہر ہوئے تھے صحن میں نظر آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو بلایا اور فرمایا ہمارا منشا ہے۔کہ مبارک احمد کی شادی کر دیں۔آپ کی لڑکی مریم ہے۔آپ اگر پسند کریں تو اس سے مبارک احمد کی شادی کر دی جائے۔انہوں نے کہا حضور مجھے کوئی عذر نہیں۔لیکن اگر حضور کچھ مہلت دیں تو ڈاکٹر صاحب سے بھی پوچھ لوں۔ان دنوں ڈاکٹر صاحب مرحوم اور ان کے اہل وعیال گول کمرہ میں رہتے تھے۔وہ ( اہلیہ حضرت ڈاکٹر صاحب) نیچے گئیں اور جیسا کہ بعد کے واقعات معلوم ہوئے۔وہ یہ ہیں کہ ڈاکٹر صاحب شاید وہاں نہ تھے۔کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔انہوں نے کچھ دیر انتظار کیا۔تو وہ آگئے جب وہ آئے تو انہوں نے اس رنگ میں ان سے بات کی کہ اللہ تعالیٰ کے دین میں جب کوئی داخل ہوتا ہے تو بعض دفعہ اس کے ایمان کی آزمائش ہوتی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ آپ کے ایمان کی آزمائش کرے تو کیا آپ پکے رہیں گے۔ان کو اس وقت دو خیال تھے کہ شاید ان کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب کو یہ رشتہ کرنے میں تامل ہو۔ایک تو یہ کہ اس سے قبل ان کے خاندان کی کوئی لڑکی غیر سید کے ساتھ نہ بیاہی گئی تھی۔اور دوسرے یہ کہ مبارک احمد ایک مہلک بیماری میں مبتلا تھا۔اور ڈاکٹر صاحب مرحوم خود اس کا علاج کرتے تھے۔اور اس وجہ سے وہ خیال کریں گے کہ یہ شادی ننانوے فیصدی خطرہ سے پر ہے۔اور اس سے لڑکی کے ماتھے پر جلد ہی بیوگی کا ٹیکہ لگنے کا خوف ہے۔ان باتوں کی وجہ سے ڈاکٹر صاحب کے گھر والوں کو یہ خیال تھا کہ ایسا نہ ہو ڈاکٹر صاحب کمزوری دکھائیں۔اور ان کا ایمان ضائع ہو جائے اس لئے انہوں نے پوچھا کہ اگر اللہ تعالیٰ آپکے ایمان کی آزمائش کرے تو کیا آپ پکے رہیں گے۔ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ مجھے امید ہے اللہ تعالیٰ استقامت عطا کرے گا۔اس پر والدہ مریم بیگم مرحومہ نے ان کی بات سنائی اور بتایا کہ اس طرح میں او پر گئی تھی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مریم کی شادی مبارک احمد سے کردیں یہ بات سن کر ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ اچھی بات ہے اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ پسند ہے تو ١٢٣