حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 101
مارشاہ صاحب باب سوم۔۔۔۔۔۔اولاد ہمدردانہ رہا۔مقدمہ حکومت اور ہر مذہب کے افراد کو احمدیت کے متعلق مزید معلومات بہم پہنچانے اور غلط فہمیوں کے ازالہ کا موجب ہوا۔اس عرصہ میں احباب جماعت حکومت سے تعاون کرتے رہے۔اور باوجود قانون کے ہاتھوں تکلیف اٹھانے کے محترم شاہ صاحب حضور انور کے ارشاد کے مطابق نہایت توجہ اور اضطراب سے اتحادیوں کی فتح کے لئے دعا کرتے رہے۔یقینا یہ ایسی ممتاز حیثیت ہے جس کی مثال صفحہ دنیا میں بجز احمد یوں کے ملنی ممکن نہیں۔مکرمہ محترمیه فرخندہ بیگم صاحبہ کو اپنے خاوند حضرت شاہ صاحب کی علالت کی وجہ سے بہت گھبراہٹ تھی۔ان کی خواہش کے مطابق اپیل کی سماعت کے وفد کی ملاقات کے بعد ان کی ملاقات کا انتظام ہو گیا۔موصوفہ کی ملاقات سے گورنر صاحب بہت متاثر ہوتے تھے۔نیز موصوفہ نے اپنے میاں کے لئے جس جان سوزی اور کچی رفاقت اور ہمدردی کا ثبوت دیا اور ساری ساری رات گریہ وزاری سے دعا کرتی رہیں ایسی صالحات و قنات کا وجود بھی ان روشن انوار کے نزول کا ثبوت ہے جو ہمارے پیارے اور مقدس حضرت مصلح موعود ( اللہ آپ سے راضی ہو ) کی برکت سے ہر آن جماعت احمدیہ پر نازل ہوتے رہتے ہیں۔فالحمد للہ۔صحت ہونے پر وہ ہندوستان کو روانہ ہوں گے نہ معلوم ان کی واپسی اس ملک میں ہوگی یا نہیں لیکن اس میں شک نہیں مشرقی افریقہ کی سرزمین حضرت امیر المومنین کے اس بچے عاشق احمدیت اور اخلاق کے اعلیٰ نمونہ اور ہمارے محترم اور شفیق بھائی کی یاد کو مدتوں فراموش نہ کر سکے گی“۔(الفضل قادیان ۱ جولائی ۱۹۴۴ء) تقسیم ملک کے وقت خدمات تقسیم برصغیر کے وقت نہایت کٹھن حالات میں جن بزرگ ہستیوں نے دیگر مسلمانوں کو جو مضافات قادیان میں جمع ہو رہے تھے اور جماعت کو محفوظ رکھنے بحفاظت لاہور بھجوانے اور قادیان میں متعین سول اور فوجی حکام سے رابطہ رکھنے کی خصوصی خدمات سرانجام دیں۔ان میں حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو ) بھی ١٠٣