حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 89 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 89

ارشاہ صاحب سوم۔۔۔۔۔۔اولاد باب سوم۔۔۔۔۔۔۔ہوں یکدم سیلاب کی صورت میں پانی آ رہا ہے۔میں کہتا ہوں کہ ان فصلوں کا کیا بنے گا۔سیلاب گزر گیا تو میں نے دیکھا کہ فصلیں اسی شان کے ساتھ کھڑی ہیں۔میں نے ڈاکٹر صاحب کو آیت كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْنَهُ ( سورة الفتح : ۳۰) پڑھ کر خواب سنائی۔جس۔آپ بہت خوش ہوئے۔وفات تابعین احمد جلد سوم با رسوم صفحه ۵۲ ۵۳) حضرت ڈاکٹر سید حبیب اللہ صاحب ( اللہ آپ سے راضی ہو ) نے (سیالکوٹ میں ) ۱۸ اپریل ۱۹۵۳ء کو بعمر ساٹھ سال وفات پائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہوئے۔۱۰۔اپریل کو ( بیت ) اقصیٰ قادیان میں آپ کا جنازہ غائب پڑھا گیا۔اور بتایا گیا کہ آپ بہت مخلص اور ملنسار تھے۔اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سچی محبت رکھنے والے اور دینی خدمت میں پیش پیش تھے۔(روز نامه الفضل ربو ۱۱،۱۰۰ اپریل ۱۹۵۳ء) ۵۔حضرت حافظ سید عزیز اللہ شاہ صاحب آپ کی پیدائش رعیہ میں ہوئی۔۱۹۰۲ ء میں آپ نے بیعت کی سعادت حاصل کی۔آپ نے ابتدائی تعلیم رعیہ میں حاصل کی بعد ازاں ٹی آئی ہائی سکول قادیان میں داخل ہوئے جہاں سے آپ نے میٹرک کیا۔آپ حافظ قرآن تھے۔سچے اور صاف گو تھے۔جھوٹ اور ٹیڑھی باتوں سے متنفر تھے۔سرکاری ملازمت میں رشوت لینا تو الگ رہا تحائف تک آپ قبول نہ کرتے تھے۔تقسیم ملک کے بعد خاکسار ( مکرم ملک صلاح الدین ایم اے) کی سفروں میں اتفاقا متعد د غیر مسلموں سے ملاقات ہوئی۔ہر ایک نے خودسید صاحب کا ذکر کیا تو معلوم ہوا کہ سید صاحب سے وہ قریبی واقفیت رکھتے ہیں۔ہر ایک نے محبت کے ساتھ آپ کا ذکر کیا اور بتایا کہ آپ نیک تھے اور رشوت سے نفرت کرتے تھے۔حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ (اللہ آپ سے راضی ہو ) کے انتقال کے بعد ان کی ۹۱