دوزخ سے جنت تک — Page 55
) 55 اور مخبوط الحواس افراد اور انکے پیچھے ہیں پچیس اپنے آپ کو ہم سے آزاد کروایا اور ہم نے اُسے بچوں کو اپنی طرف یکدم بھاگتے ہوئے دیکھ کر وہ اپنی اردو زبان میں ساری بات سمجھائی۔جان پاکستانی شخص گھبرا گیا اور پیچھے کو دوڑا۔دار اصل بوجھ کے ٹھیٹھ پنچابی کے لفظ استعمال کر کے اُسے میں یہ بتانا بھول گیا کہ ہم نے پچھلے ایک مہینے سے یقین دلایا کہ ہم واقعی پاکستانی ہیں۔وہ کہنے لگا شیو نہیں کی تھی نہ ہی بال کٹوائے تھے نہ ہی کہ میں دکان سے انڈے خریدنے جا رہا ہوں۔کپڑے بدلے تھے۔آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ہم آپ یہیں شہریں میں ابھی آتا ہوں۔ہم نے کہا کتنے خوبصورت لگ رہے ہوں گے۔جمشید نے نہیں ہم ساتھ ہی چلتے ہیں۔چنانچہ بچوں کا شکریہ عربی زبان میں دوڑتے ہوئے اُس پاکستانی ادا کرتے ہوئے ہم اُس کے ساتھ چل شخص کو کچھ بتایا تو وہ ڈرتے ڈرتے رک گیا۔ہم پڑے۔( میں اُسکا نام بھول گیا ہوں) پھر وہ سب دوڑ کے اُسکے گلے لگ گئے۔ہم سب ہم سب کو اپنے گھر لے گیا۔کچا گھر تھا اور سردی اُسے ایسے مل رہے تھے جیسے وہ ابھی ابھی مسلمان سے پانی دیواروں کے اندر تک آیا ہوا تھا۔ہوا ہو۔کا کا تو اُسکی گود میں چڑھ کے اُسے چوم سونے کے لئے زمین پر گرے تھے۔میں سوچتا رہا تھا اور ہمارا ایک ساتھی اُسکے ہاتھ ایسے چوم ہوں وہ آدمی تھا کہ فرشتہ تھا۔کہانیوں اور افسانوں رہا تھا جیسے کوئی گناہ گار اپنے گناہوں کا اقرار جیسے لوگ آج بھی کہیں نہ کہیں مل ہی جاتے ہیں۔کرتے ہوئے اپنے پیرو مرشد کی بیعت کرتا ہے شیطان اور فرشتے یقینا کوئی اور مخلوق بھی ہوں ایک دوست نے اُسے قابو کرنے کے لئے اُسکی گے لیکن اس دنیا میں بھی وہ قدم قدم پر ملتے ہیں شلوار کو ایسا پکڑا کہ اُسکی شلوار اتر تے اترتے بچی۔اُس نے اپنی بیوی کو جگایا اور پھر دونوں نے لبنانی بچے مفت میں ایسا ڈرامائی منظر دیکھ کے مل کے ہمارے لئے روٹیاں اور آلو انڈے لطف اندوز ہورہے تھے۔اُسنے بڑی مشکل سے بنائے۔اُسکے بعد ہمارے لئے گرما گرم قہوہ بنایا۔