دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 60 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 60

) 60 ڈرائیور بھی کوئی نشئی ہی لگ رہا تھا۔اسکی کا راُس نے نہیں دیکھا۔تبارک نے بتایا کہ آج پہلی بار سے بھی زیادہ نشے میں تھی اور چلتی کم اور کھڑکتی فوجی اتنی صبح گاڑیوں کی چیکنگ کر رہے ہیں ورنہ زیادہ تھی۔مجھے یاد ہے کہ اُس روز مبارک کی عام طور پہ یہ سلسلہ دیر سے شروع ہوتا ہے۔اس جیب میں ہزاروں ڈالر تھے۔پتہ نہیں وہ اتنی رقم وقت ہم تبارک کے بھائی مبارک کے رحم و کرم پر کہاں سے لاتا تھا اور کس کے لئے کام کرتا تھا۔تھے اور اُسکے اشاروں پر اٹھ بیٹھ اور لیٹ رہے مست سا آدمی تھا جب شام سے ہمارے پاس تھے۔مبارک نے ہمیں بتایا کہ ایک میل کا فاصلہ لبنان آیا تھا تو کوئی پندرہ گھنٹے مسلسل سویا رہا تھا۔ہمیں چھپ کے انہی کھیتوں میں سے طے کرنا بہر حال اُس روز اُسنے ہمیں بتایا تھا کہ یہ ٹیکسی ہوگا تب کہیں جا کے ہم اس فوجی کیمپ سے والا ہمیں ایک اور ٹیکسی تک پہنچائے گا جو ہمیں دور جانکلیں گے۔ہم دل ہی دل میں مبارک کو برا شام میں کسی محفوظ جگہ تک پہنچائے گی۔وقت یاد بھلا کہہ رہے تھے جس نے ہمیں اس مصیبت نہیں لیکن کافی دیر ہماری ٹیکسی جانب شام روانہ میں ڈالا تھا۔اُس نے کہا کہ اگر فائرنگ ہوئی تو رہی اور پھر یکدم ٹیکسی ڈرائیور نے گاڑی کو ایسی جسکا جو دل کرتا ہے کرے جدھر کو موقع ملتا ہے بریکیں لگا ئیں کہ ہم سب زخمی ہوتے ہوتے بچے بھاگ جائے۔یہاں ہماری زندگی کی حیثیت اور۔اُسنے چیختے ہوئے عربی میں ہمیں کچھ کہا۔ایک پلے کی حیثیت برابر ہے۔ہمارے دل مبارک کے حکم پر ہم گاڑی سے اتر کے دوڑ کے خوف کے مارے ایسے دھڑک رہے تھے جیسے کسی قریبی کھیتوں میں چھپ گئے اور ٹیکسی والا فوراً پرانی ڈیزل کار کا انجن اپنے آخری دنوں میں واپس لبنان بھاگ گیا۔دور کھڑے فوجیوں نے دھڑکتا تھا۔ہمیں پتہ چل رہا تھا کہ ہمارا آخری اس طرح ایک گاڑی کو آتے اور اور تیزی سے وقت آگیا ہے۔ہم اُس وقت مبارک کے مڑتے دیکھ لیا تھا۔ہمیں لگ رہا تھا کہ ہمیں کسی ہاتھوں میں ایسے تھے جیسے کسی نے قربانی کا بکرا