دوزخ سے جنت تک — Page 41
) 41 حفاظت کرتا ہوگا صرف اسلئے کہ اس سے تیار ہوتے ہی ہماری خوشی کی انتہاء نہ رہی کمرے میں ہونے والی چینی سے جان جاناں ایک لڈو کھا لے۔وہ بزرگ لڈو کا ایک ذرہ منہ میں ڈالتے اور سبحان اللہ سبحان اللہ کا ورد کرتے ہوئے بتاتے جاتے کہ کسطرح آگ کے قریب کھڑے ہو کے کسی نے گنے کے شیرہ کو چینی میں دونوں اطرف دو دو منزلہ لوہے کے بیڈ لگے بدلا ہو گا کس طرح یہ چینی مزدور اٹھا کے دکانوں ہوئے تھے۔اندر آزادی تھی قیدی ایک جگہ سے پہ لائے ہوں گے کس طرح حلوائی نے آگ کے دوسری جگہ جا سکتے تھے۔کئی قیدی مختلف گروپوں قریب کھڑے ہو کے اور مشقت اُٹھا کے لڈو میں بیٹھے تاش کھیل رہے تھے۔ہم جو پچھلے پندرہ بنائے ہوں گے صرف اسلئے کے جانِ جاناں دنوں سے فرش پہ اور تہہ خانے کی کوٹھڑی میں بند ایک لڈو کھائے۔سبحان اللہ سبحان اللہ۔سو تھے ہمیں یہ جگہ کوئی پر تعیش ہوٹل سے کم نہیں لگ اُس دن دمشق کی اُس جیل میں جب بھوک انتہاء رہی تھی۔ہر کمرے کا ایک امیر مقررتھا اور سب پہ پہنچے کے بعد مجھے ایک ابلا ہوا آلو ملا تو میں آلو پر اُسکی اطاعت واجب تھی۔ہمارے کمرے کا کھاتے ہوئے سبحان اللہ سبحان اللہ کہہ رہا امیر ایک انتہائی سفاک دکھائی دینے والا شخص تھا ور متعدد افراد کے قتل کے جرم میں عمر قید کاٹ رہا تھا۔کھانے کے بعد ہمیں قیدیوں کے کپڑے تھا۔کمرے میں اُسکی عزت بلکہ دہشت تھی۔پہننے کے لئے دیئے گئے اور پھر ہم سبکو دو دو کر کے قیدیوں نے اشاروں سے ہمیں بتایا کہ جا کے مختلف کمروں میں بھجوا دیا گیا۔مجھے اور نصیر کو اُسے سلام کرو۔ہم دونوں اُس کے پاس گئے۔ایک کمرے میں بجھوایا گیا تھا۔کمرے میں داخل ملے اور اپنی کہانی سنانے کی کوشش کی۔اُسنے