دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 3 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 3

دوزخ سے جنت تک) 3 خوبصورت ایران پہنتے ہیں کہ ہمارے ملک کے صرف اس شرط پر لوں گا کہ یہ قرض حسنہ ہوگا۔سرجن لگتے ہیں۔جون جولائی کی تپتی دوپہروں میں نے انہیں اصل بات نہیں بتائی کہ آجکل میں جب ہمارے لا ہور میں بجلی گئی ہوتی تھی فون قرض حسنہ اُسے کہتے ہیں کہ جب قرض واپس کر کے بتاتے تھے کہ وہاں جرمنی میں ملک شیک مانگا جائے تو قرض دار قرض واپس کرنے کی درجنوں رنگوں میں اور درجنوں ذائقوں میں وافر بجائے صرف ہنسنا شروع کر دے۔اگلے کچھ مقدار میں ملتا ہے۔فون کے دوران بھی معلوم دنوں میں مبشر بھائی نے رقم خاکسار کے حوالے ہوتا تھا کہ وہ ملک شیک پی رہے ہیں کیونکہ کر دی۔رقم لیتے وقت بھی میں نے قومی وقار کو غٹاغٹ کی آواز آرہی ہوتی تھی جو کہ ہماری پیاسی برقرار رکھا اور اُن پر واضح کیا کہ ہم ایک خود دار قوم روح کو اور بھی تڑپاتی تھی۔ہیں اور غیر ملکی امداد کو ہاتھ لگانا پسند نہیں کرتے ہمارے لئے اُسکی باتیں کسی افسانے سے کم نہ اسلئے خاموشی سے یہ رقم میری دائیں جیب میں تھیں سو ہم نے اپنے بڑے بھائی جان مبشر ڈال دیں۔صدیقی صاحب سے جو کہ ان دنوں برطانیہ سے اللہ اللہ کر کے ایجنٹ کے پیسوں کا بندوبست کیا پاکستان آئے ہوئے تھے ، اپنے جرمنی جانے اور آج ہم کراچی ایئر پورٹ میں داخل ہورہے کے ارادے کا اظہار کیا اور اُن کے روبرو اُنکی تھے۔ہمارے ایجنٹ صاحب نے ہمیں بتایا تھا اچھی صفات کا مبالغہ آرائی سے ذکر کیا جس سے کہ وہ ہمیں پہلے ملک شام لے کر جا ئیں گے متاثر ہوکر انہوں نے مطلوبہ رقم عاجز کو دینے کو جہاں جرمنی ایمبیسی میں کام کرنے والے کچھ پیشکش کر دی۔میرا دل تو چاہ رہا تھا کہ فوری طور لوگ اُنکے مرید و معتقد ہیں۔اُن سے جرمنی کا پر یہ پیشکش قبول کر لوں لیکن وضع داری قائم اصل ویزہ لگوا کر اور ملک شام میں دو دن سیرو رکھتے ہوئے میں نے انہیں کہا کہ میں یہ رقم تفریح کے بعد ہم جرمنی پہنچ جائیں گے۔ہمارے