دوزخ سے جنت تک — Page 4
دوزخ سے جنت تک ) 4 گروپ میں کوئی پانچ مرد اور دو خواتین تھیں یعنی کی موٹی سی ڈائری میرے حوالے کی اور کہا کہ ہم کل سات تھے۔خواتین میں سے ایک میرے اسے خوب احتیاط سے رکھنا کیونکہ اس میں دمشق دوست کی اہلیہ تھیں جبکہ دوسری بزرگ خاتون کے وہ سارے ایڈریس موجود ہیں جہاں جہاں میرے ایک بڑے پیارے اور عزیز دوست کی ہمیں جانا ہے۔اس سے والدہ تھیں یعنی ہم کل سات لوگ تھے۔میری پہلے کہ میں کچھ کہتا اہلیہ ساتھ نہیں آئیں تھیں کیونکہ مجھے پتہ ہی نہیں مجھے زبردستی ڈائری تھا تھا کہ وہ کون تھیں کیونکہ میری ابھی شادی ہی نہیں کے ہمارا ایجنٹ اُسی خوش ہوئی تھی۔آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میں ابھی تک نوجوان کے ساتھ کوئی دس پندرہ منٹ کے لئے 6 یوش ایک آزاد ملک کا آزاد شہری تھا اور ہر غیر شادی اندر چلا گیا۔آپ قارئین کو شائد عجیب لگا ہو کہ شدہ کی طرح بے فکرا اور بے خوف قسم کا آدمی میں حاجی صاحب کو چلے گئے کی بجائے ” چلا گیا“ تھا۔ایئر پورٹ میں داخل ہوتے ہی ایک خوش کہہ رہا ہوں۔بات کچھ ایسے ہے کہ میں نے اس پوش نوجوان نے ہمارے ایجنٹ کا والہانہ سے پہلے لکھا تھا کہ وہ شکل وصورت سے انتہائی استقبال کیا کسی بڑے حاجی صاحب کا حال مومن اور کوئی پہنچے ہوئے عالم دین لگتے تھے لیکن احوال پوچھا اور پھر ہم سے بھی ایسی گرمجوشی سے میں یہ بتانا بھول گیا کہ وہ ایک بات میں کوئی دو ہاتھ ملایا کہ ہمیں یقین ہو گیا کہ ہم واقعی معزز لگ تین گالیاں ضرور نکالتا تھا۔ایئر پورٹ پر کسی رہے ہیں اور ہمارے درزی نے پہلی بار ہمارے شریف آدمی نے ہمارے ایجنٹ کی توجہ اُسکے کپڑے ہمارے ہی ماپ کے سئے ہیں۔ضرورت سے زیادہ لٹکتے ہوئے آزار بند یعنی ہمارے ایجنٹ نے سبکو ایک طرف کھڑا ہونے کا نالے کی طرف دلوائی تو انہوں نے فوراً اپنی شلوار حکم دیا مجھے ایک طرف بُلا کے ایک کالے رنگ کا نالہ اوپر کھنچتے ہوئے اپنے ہی نالے کو بڑی سی