دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 62 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 62

) 62 پوائنٹ پہ ایک لائن میں کھڑا کر دیا گیا اور مجھے لگا کہے ہاتھ اٹھائے اُس کے پیچھے چل پڑو۔ہم کہ اب ہمارا آخری وقت آگیا ہے۔ایک فوجی لرزتی ٹانگوں اور دھڑکتے دلوں کے ساتھ ہاتھ نے بندوق کا بٹ میری کمر پر ایسا مارا کہ اوپر کا اُٹھائے شام کی سرحد کی طرف چل پڑے سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا پھر اسنے بندوق ہمارے عقب میں فوجی بندوقیں ہم پہ تانے کی نالی عین میرے سینے پہ رکھ دی اور عربی میں کھڑے تھے اور ہمیں لگ رہا تھا کہ کسی بھی لمحے کچھ چلانے لگا۔سب عزیزوں پیاروں کے گولی ہمیں اپنا نشانہ بنائے گی۔کافی آگے جاکے چہرے ایک دفعہ آنکھوں کے آگے گھوم گئے میں نے زراسی گردن موڑ کے دیکھا تو فوجی واپس۔ایک فوجی تو ایسے اُچھل اچھل کے ہمیں مار اپنے کیمپ میں جاچکے تھے۔کچھ نہ پوچھئے کتنی پیٹ رہا تھا جیسے اسی کام کی وجہ سے وہ بخشا جائے خوشی ہوئی۔مبارک نے ہمیں بتایا کہ میں نے ان گا۔ایک فوجی بار بار آ کے ہمارے بال کھینچتا تھا فوجیوں کو بھاری رقم بطور رشوت دی ہے جسکی شائد فوج میں آنے سے پہلے نائی تھا۔ہمارا بناء پہ ہماری جان بخشی ہوئی ہے۔مبارک نے دوست بشارت صالح جو کہ امیر آدمی تھا ابھی ہمیں تسلی دی کہ اب اگلے شام کے باڈر پر اتنی تک اپنے ڈالروں کی ایک بڑی تعداد پولیس سختی نہیں ہے ہمارے پاس اُسکی باتیں ماننے سے چھپانے میں کامیاب رہا تھا کیونکہ اسنے اپنی کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔کوئی آدھ جیکٹ کہیں سے پھاڑ کے ڈالر اندر پھینک دیئے گھنٹہ پیدل چلنے کے بعد ہمیں شامی سرحد نظر آنا تھے۔لیکن یہاں وہ سارے ڈالر جاتے رہے۔شروع ہوگئی۔کوئی خاص باڈر نہیں تھا یا شائد ادھر مبارک کو کچھ فوجی گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ مبارک بارڈر کے ہر رُوٹ سے واقف تھا اور یہ کیمپ میں لے گئے۔کوئی دس پندرہ منٹ کے نسبتاً محفوظ راستہ تھا۔مبارک ایک ایسا شخص تھا بعد مبارک کیمپ سے نکلا اور ہمیں کہا کہ بغیر کچھ کہ اُسکا پلان اور بیان کسی بھی وقت بدل سکتا تھا