دوزخ سے جنت تک — Page 56
) 56 ہماری باتیں سنیں۔خود اُسنے بتایا کہ کوئی پانچ کھانا مانگنے کو بھی دل نہ چاہتا تھا۔کسی نہ کسی طرح سال قبل اُسکا پاکستانی ایجنٹ اُسے امریکہ گزارا کیا۔باڈر پر ہونے کی وجہ سے اس گاؤں بھجوانے کے لئے دمشق کی جیلوں میں چھوڑ کے کے ستر فیصد نوجوان اور مرد جنگ میں مارے جا بھاگ گیا تھا پھر بالکل ہماری طرح اُسے لبنان چکے تھے، فوج میں تھے یا فوج میں جبری بھرتی ڈی پورٹ کیا گیا تھا اور اب وہ پچھلے تین چار کے باعث غائب ہو چکے تھے۔سکول جاتے سالوں سے محنت مزدوری کر کے زندگی بسر کر رہا بچوں کے ہاتھوں میں جہاں سکول بیگ نظر آتے تھا اور اُسنے باقی عمر لبنان میں ہی رہنے کا سوچ لیا تھے وہیں سکول بیگ کے ساتھ کلاشنکوف بھی نظر تھا۔پھر سونے کی باری آئی۔باقیوں کے بستر کا آتی تھی۔گاؤں میں عورتیں ہی عورتیں نظر آتی مجھے علم نہیں لیکن میرا گدا نیچے زمین گیلی ہونے تھیں۔میں صبح سے بھوکا تھا اور ویسے ہی گلیوں کی وجہ سے گیلا تھا اور میر اسر جس دیوار سے لگ میں گھوم رہا تھا۔چلتے چلتے ایک کچی سی کر یا نہ کی رہا تھا وہ دیوار بھی گیلی تھی لیکن آزادی کے سامنے دکان میں فارغ دکاندار نظر آیا سوچا اس سے ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کی کوئی حیثیت نہ تھی۔معلومات حاصل کرتا ہوں کہ کس طرح لبنان رات سوئے ہوئے دیوار میں کسی زور دار دھماکے سے جرمنی جایا جا سکتا ہے۔جاسکتا سے لزراٹھیں دور غالباً کسی ٹینک نے گولا داغا دکاندار ایک معزز قسم کا پڑھا لکھا آدمی تھا۔کر تھا۔ہم گھبرا گئے لیکن اس پاکستانی بھائی نے ہمیں انگلش بولتا تھا اسے باتوں باتوں میں ساری بات کہا سو جاؤ یہ معمول کی بات ہے۔اگلا دن لبنان بتائی۔اُسکی ایک بہت ہی خوبصورت لڑکی بھی کے اس گاؤں میں گھومتے گزارا۔پیسے جیب میں اُسکے پاس ہی کھڑی تھی۔اُسے دیکھ کے سمجھ آیا کہ نہ تھے اور اس پاکستانی بھائی کے گھر کی حالت اور لبنان کو دودھ اور شہد کی سر زمین کیوں کہا جاتا کھانے کی مقدار دیکھ کے اُس پر بوجھ بننے کو اور ہے۔باقی باتوں کے علاوہ دکاندار کہنے لگا میرا