دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 52 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 52

) آواز تھی۔52 اسرائیل اور لبنان کی سرحد کا کوئی علاقہ تھا ہم نو پکا یقین ہونے کے بعد ہم نے مڑ کے دیکھا اور ساتھی تھے اسلئے ٹھیک تھے مجھے یقین ہے کہ یہ دیکھنے کے بعد کہ واقعی گاڑی جا چکی ہے اور ہم اگر کسی کو اکیلے رات کے وقت وہاں چھوڑ دیا آزاد ہیں ہم نے خوشی سے اُچھلنا شروع کر دیا شهری دوست بریک ڈانس جبکہ گاؤں کے دوست بھنگڑا ڈال رہے تھے اور چک میں رہنے والے صرف خوشی سے اُچھل رہے تھے۔ہم نے جائے تو شائد خوف سے اُسکا دل بند ہو جائے۔یہ آگے پیچھے دائیں بائیں گھوم کے دیکھا کہ ہم سنسان علاقہ نو مین لینڈ تھا یعنی شام اور لبنان واقعی آزاد ہیں۔ہمیں یقین نہیں آرہا تھا کہ ہم اپنی کے درمیان ایسی جگہ تھی جہاں کسی کی حکومت نہیں مرضی سے چند قدم چل سکتے ہیں۔زندگی بڑی تھی۔ایک سائڈ پر شام کی فوجی چھاؤنیاں تھیں تو عجیب و غریب چیز ہے۔زیادہ تر نعمتوں کا دوسری طرف لبنان کی۔ہمیں انہوں نے ایسی احساس صرف اُس وقت ہوتا ہے جب وہ ہم سے جگہ چھوڑا تھا جہاں ہمیں دوسری طرف کوئی لبنانی واپس لے لی جاتی ہیں۔دو چار منٹ کے بعد اس فوجی نظر نہیں آرہا تھا۔بس ٹینک نظر آ رہے تھے جنگل بیابان کی ویرانی کا خیال آیا اور ہم لبنان کو پہاڑوں کی چوٹیوں پر۔ہمیں خطرہ ضرور تھا کہ دور چل دیئے کچھ دیر چلتے رہے اور پھر آگے جاکے سے کوئی ہمیں گولی نہ مار دے کیونکہ اخباروں ہم بیٹھ گئے۔وہ ڈوبتے سورج کا منظر وہ بیابان میں پڑھتے آئے تھے کہ آجکل شام اور لبنان علاقہ وہ عجیب و غریب پہاڑیوں کے درمیان کے باڈر پر انسانی زندگی اور کتے کی زندگی ایک گھائی اور وہ دور جنگ سے تباہ شدہ ٹینک ایک برابر ہے اور باڈر پر موجود کسی بھی شخص کو گولی مار عجیب پر اسرار منظر پیش کر رہے تھے۔شائد وہ دینے سے کسی کو فرق نہیں پڑتا تھا۔کافی دیر چلتے