دوزخ سے جنت تک — Page 5
دوزخ سے جنت تک ) 5 گالی دی اور پھر وہی گالی اُس شخص کو دی جس نے صالح ٹہلتا ہوا میرے قریب آیا اور میرے کان اس طرف توجہ دلوائی تھی۔ہماری شاعرانہ طبیعت میں یہ کہہ کے چلا گیا کہ یہ کالی ڈائری اپنے پاس پر یہ کافی گراں گزرا کہ دو مختلف چیزوں کو ایک نہ رکھو۔جیسے مخاطب کیسے کیا جا سکتا ہے۔اسکی اس بات نے مجھے پریشان کر دیا کہ آخر یہاں میں اپنے اس ناخوشگوار تجربے کی بناء پہ اس ڈائری میں ہے کیا جو وہ ایجنٹ اپنے پاس اپنے قارئین کو ایک نصیحت کرتا چلوں کہ کبھی کسی کا نہیں رکھنا چاہتا اور بشارت نے مجھے خبر دار کیا ہے ظاہر دیکھ کر فوراً اُس کے متعلق اپنی رائے نہ قائم کہ یہ ڈائری اپنے پاس نہ رکھنا۔کر لیں بلکہ اس حدیث پر عمل کریں جس کا مفہوم یہ اُس ایجنٹ اور بشارت صالح دونوں سے آج ہے کہ انسان کے اخلاق کا اُس وقت تک نہیں پتا میری پہلی ہی ملاقات تھی اور میں فیصلہ نہیں کر پا چلتا جب تک اُسے شدید غصے یا شدید خوشی کے رہا تھا کہ ان دونوں میں سے کون میرا ہمدرد ہے عالم میں نہ دیکھ لیا جائے۔ہمارے ایجنٹ۔ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ وہ ایجنٹ میرے صاحب کو بھی دیکھ کے ایک روحانی سرور ملتا تھا پاس آیا اور ایک بار پھر بڑی تاکید سے ڈائری کو لیکن اُن سے گفتگو کر کے وہ سرور کا فور ہو جاتا تھا سنبھال کے رکھنے کا کہا۔میں نے جھٹ سے وہ بہر حال آج ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں تھا ڈائری نکالی اور اسکے ہاتھ میں تھما دی اور اُسے کہا ہمیں اپنے خوابوں کے جزیرے جرمنی پہنچنا کہ میں ڈائری نہیں رکھنا چاہتا۔اُس نے بڑے درکار تھا۔ائر پورٹ پر کافی دیر تک ہمیں ہمارا غصے کے ساتھ مجھ سے ڈائری لے کے اپنے بیگ ایجنٹ اور ایف آئی اے کا وہ نوجوان ایک کونے میں ڈال لی اور کہا کہ آپ لوگ میرا چھوٹا سا کام میں کھڑے سرگوشیوں میں مصروف نظر آئے۔بھی نہیں کر سکتے۔یہ لو میں خود رکھ لیتا ہوں عام سی اتنے میں ہی ہمارے گروپ کا ایک فرد بشارت ڈائری ہے میں دل ہی دل میں بہت شرمسارسا