دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 49 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 49

) 49 کرنے کے لئے بلا وجہ ہمارا امتحان لینے لگا کسی کو مجھے چھوڑ کر وہ اگلے قیدی سے سوالات پوچھنے کہتا سورت فاتحہ سناؤ کسی کو کوئی اور سورت سنانے لگا۔یہ واقعہ جب لکھ رہا ہوں تو ساتھ ہی وہ پرانا کا کہتا۔پھر اُسنے صالح بشارت سے پوچھا کہ سالطیفہ بھی یاد آ رہا ہے کہ جب جنت میں جانے امریکہ کا صدر کون ہے۔عراق کا صدر کون ہے کے لئے لائن لگی ہوئی تھی اور دروازے پر کھڑا ہوا فلسطین میں کس کی حکومت ہے۔بشارت سمجھا کہ فرشتہ ہر ایک سے نام پوچھ کے کہتا اب یہ سورت شائد صیح جوابات پر وہ کہے گا شاباش جاؤ تم آزاد سناؤ اور اندر جاؤ۔پہلے کا نام یوسف تھا فرشتے ہو۔بشارت نے فٹافٹ جواب دیئے۔اُس کے نے کہا سورت یوسف سناؤ۔دوسرے کا نام عمران نوے فیصد جوابات درست تھے اس پہ اُس نے تھا فرشتے نے کہا سورت عمران سناؤ۔لائن میں بشارت کو تھپڑ مارتے ہوئے کہا انت سیاسی ایک شخص بڑا مضطرب تھا اُسکا نام رحمان تھا۔انت سیاسی۔یعنی تم کوئی سیاسی قسم کے آدمی جب اُسکی باری آئی تو فرشتے نے پوچھا کہ تمہارا لگتے ہو۔پھر میری باری آئی کہنے لگے اسرائیل کا نام کیا ہے اُس نے کہا کہ میرا نام تو رحمان ہے وزیر اعظم کون ہے۔میں نے کہا مجھے علم نہیں۔لیکن اُسنے مجھے بالوں سے پکڑا ہوا تھا مجھے ہلا جلا کے والے مجھے اُس نے اصرار کیا کہ میں ضرور اُسکے سوال کا پیار سے کوثر جواب دوں۔میں صالح کا حشر دیکھ چکا تھا اسلئے کوثر کہہ کے میں نے ذہن پر زور دے کے کہا کہ میرے بلاتے ہیں۔خیال میں اسرائیل کے وزیر اعظم کا نام عبدالستار بہر حال یہ تو لطیفہ تھا لیکن اسیری کے اُن دنوں ایدھی ہے۔اُس ظالم نے مجھے کان پر تھپڑ مار میں ہر کوئی بلا وجہ ہم پہ رعب ڈالتا تھا اور جو دل کے کہا تم بہت نالائق ہو اور پھر خدا کا شکر ہے کہ میں آتا تھا سوال کرتا تھا۔سپاہی اور فوجی اتنے