دوزخ سے جنت تک — Page 50
) 50 تھے کہ عام آدمی کم نظر آتے تھے۔تین چار پاکستان بجھوایا جائے۔دو دن بعد جب پولیس پیشیوں کے بعد حج نے فیصلہ سنایا کہ ہم بے قصور ہمیں لینے آنے والی تھی پھر وہی گفتگو شروع ہوگئی ہیں ہمیں پاکستان بجھوا دیا جائے یا اگر ہمارے کہ جہاں اتنی مشکل اُٹھالی ہے اب لبنان جا کے پاس پاکستان کی واپسی ٹکٹ نہیں ہے تو ہمیں قسمت آزمائی کرنی چاہئے۔آخر میں زیادہ لبنان بجھوا دیا جائے۔وہ حج جو بھی تھا اُسنے دوستوں کی رائے تھی کہ ایک بار ہم جیل سے آزاد رشوت لی تھی یا نہیں لی تھی بہر حال اُسنے بڑی ہو کے لبنان چلے جائیں تو وہاں سے اپنے ہمدردی اور توجہ سے ہماری بات سنی۔لبنان اُن دنوں شام کے زیر تسلط تھا اور شامی مجرمان کے لئے کالا پانی تصور کیا جاتا تھا کیونکہ جنگ کے بعد وہاں روٹی کھانے کو نہ ملتی تھی اور جنگ میں ہزاروں نوجوان مارے گئے تھے۔ہمیں سوچنے عزیزوں سے جرمنی رابطہ کر کے پیسے منگوا لیں کے لئے دو دن کی مہلت دی گئی۔یہ دو دن بہت گے اور جرمنی نکلنے کی کوشش کریں گے۔شام کے سوچ و بچار اور بحث مباحثہ میں گزرے سب کا کوئی پانچ بجے ہوں گے جب دروازہ کھلا ہمیں خیال تھا کہ خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ جان ہتھکڑیاں لگائی گئیں اور مرکزی دفتر میں لے جایا چھوٹ رہی ہے اس لئے پاکستان جانا چاہئے۔دو گیا۔وہاں ہم نے بتایا کہ ہم پاکستان نہیں بلکہ تین بضد تھے کہ ہمیں لبنان چلے جانا چاہئے تاکہ لبنان جانا چاہتے ہیں۔انہوں نے ایک زرہ بھی ہم وہاں سے جرمنی کی ٹکٹیں بنوا کے نکل جائیں۔تعجب نہ کیا اور ہمارے دستخط کروا کے ہمیں فوجی ہم نے پولیس کو لکھ کے دیا کہ ہمارے پاس گاڑی میں لا دیا۔لبنان کہاں ہے۔کتنی دور ہے پاکستان کی ٹکٹیں نہیں ہیں لیکن ہمیں کسی طرح وہاں کیسے جانا ہے کس کے پاس جانا ہے باڈر پر