دوزخ سے جنت تک — Page 40
) 40 المدرہ بھجوادیا گیا۔یہ جبیل تھی یا کوئی شہر تھا شائد ایک ایک روٹی اور ایک ایک بڑا سا ابلا ہوا آلو تھا کوئی چھ سات ہزار کے قریب قیدی ہوں گے۔یقین کریں اُس کھانے کا اتنا لطف آیا کہ بیان اس جیل میں کئی بلاک تھے۔ہر بلاک میں آگے سے باہر ہے اور اُس وقت یاد آیا کہ ہم اللہ تعالی کئی کئی راہداریاں تھیں۔ہر راہداری میں اندازاً کی نعمتوں کی کیسی ناشکری کرتے ہیں جب کہ کوئی تیس تیس کمرے تھے اور ہر کمرے میں کوئی ایک ایک لقمے پر اُسکا شکر واجب ہے۔اُس دن پچاس ساٹھ قیدی تھے۔سب سے پہلے ہمیں وہ آلو کھاتے ہوئے اُس بزرگ کا واقعہ سمجھ آیا ایک مولوی صاحب کے پاس لے جایا گیا جب انہوں نے اپنے ایک مرید کولڈو کھانے کا جنہوں نے عربی زبان میں ہمیں لیکچر دیا۔ہمیں طریقہ سمجھایا تھا۔بات کچھ یوں تھی کہ کہیں سے سمجھ نہیں آئی لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کا نام لڈو آئے تو مرید نے پورا لڈو اُٹھا کے منہ میں سن کے سمجھ میں آیا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ نبیوں پر ڈال لیا اور بغیر شکر یہ یا شکر ادا کئے اپنے کام میں بھی مشکل کے وقت آتے رہے ہیں اور یہ جیل مشغول ہو گیا۔اس پر اُس بزرگ نے جنکا نام اپنی اصلاح کرنے کی جگہ ہے۔ویسے یہ جیل اتنی شائد حضرت جان جاناں تھا مسکراتے ہوئے صاف ستھری اتنی منظم تھی کہ میں اسکی تعریف کئے اپنے مرید کو کہا کہ آؤ میں تمہیں لڈو کھانے کا صحیح بغیر نہیں رہ سکتا۔لیکچر کے بعد ہمیں ڈائٹنگ بال طریقہ بتاتا ہوں۔پھر انہوں نے لڈو کا ایک ذرہ لے جایا گیا۔ہمیں کھانا دیا گیا۔کھانے کے لئے منہ میں ڈالتے ہوئے سبحان اللہ سبحان اللہ کا ورد کیا اور بولے کہ کوئی کسان اپنی نیند قربان کر کے صبح سویرے اپنے کھیتوں میں گیا ہوگا اور اسنے اپنے بیلوں کے ذریعہ زمین میں ہل پھیرا ہوگا پھر گنے کو کاشت کیا ہوگا اور فصل پکنے تک فصل کی