دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 33 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 33

) 33 پھر دو جلا دو قسم کے سپاہی ہاتھوں میں ڈنڈے تکلیف اُٹھانے کے لئے چن لیا گیا تھا۔اختر گھماتے ہوئے آگے بڑھے اور کمرے کے عین جس کا پھولوں جیسا بچہ میں نے اُٹھایا ہوا تھا وہ بیچوں بیچ مجھے لا کھڑا کیا۔میز کی دوسری جانب یہ منظر برداشت نہ کر سکا۔اُسکو ایک جان لیوا قسم بیٹھے افسر نے کچھ کہا اور مجھے معلوم ہو گیا کہ مجھے کا ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ دھڑام سے بے جان سے سختی سے پوچھ گچھ کی اجازت دے دی گئی تختے کی طرح زمین پر گر کے بے حس و حرکت ہو ہے۔ایک سپاہی نے ڈنڈا لہراتے ہوئے مجھے گیا۔یہ دیکھتے ہی ہم سب تمام مصلحتوں کو بالائے حکم دیا کہ میں بچہ اُسکے باپ کے حوالے کر طاق رکھتے ہوئے اُسکی جانب لپکے۔پولیس دوں۔کمرے کا ماحول اور پولیس والوں کے والے بھی اسکی جانب دوڑے۔پہلے تو وہ سمجھے مزاج دیکھ کے مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ آج میرے کہ اختر بہانہ کر رہا ہے اور لگے گالیاں دینے لئے مشکل دن ہے۔میں نے بچہ چھوڑنے سے لیکن اختر کی نبضیں ڈوب رہیں تھیں جیل کے انکار کر دیا۔سپاہی نے میری کمر پر دو ڈنڈے ڈاکٹر کو بلایا گیا جس نے تصدیق کی کہ زندگی ایسے مارے کہ میرے وجود میں ناقابل موت کا مسئلہ ہے فوراً ہمیں واپس تہہ خانے برداشت دردیں اُٹھیں۔سپاہی چینجا بچے کو چھوڑو میں اور اختر کو بذریعہ ایمبولینس ہسپتال روانہ کیا چھوڑو چھوڑو۔مجھے لگ رہا تھا کہ جب تک یہ بچہ گیا۔اگلے دو روز ہمیں کچھ علم نہیں تھا کہ اب کیا میرے پاس ہے میں بچا ہوا ہوں سو اس سپاہی ہونے والا ہے۔پھر ہمیں بتایا گیا کہ کل پھر سب کے چیخنے چلانے اور غرانے کے باوجود میں نے کے انٹرویو ہوں گے تیار رہیں۔بچہ نہیں چھوڑا۔اور پھر میرے سارے ساتھی گواہ وہ ساری رات میں خوف کے مارے سونہ پایا ہیں کہ یکدم ایسا ہوا جیسا فلموں اور ڈراموں میں۔اگلے دن وہی کمرہ تھا لیکن ایک تبدیلی تھی۔وہ ہوتا ہے۔میری جان بخشی کے لئے کسی اور کو یہ کہ پاکستانی ایمبیسی سے کوئی آدمی آیا ہوا تھا۔