دوزخ سے جنت تک — Page 20
) 20 b میرے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے کیونکہ اس حلئے کے منگواتے تھے یا بعض کہ رشتے دار انہیں کھانا کا کوئی ہوتا تو پکڑا جاتا۔اب اللہ ہی ہمیں بچا سکتا بھجواتے تھے۔ہم اس جیل کی حوالات میں بند تھا ہماری تدبیر ہمارے لئے ہی مہلک ثابت ہوئی تھے اس لئے جیل کی طرف سے کچھ نہیں تھا تھی لیکن ہماری مجبوری تھی کہ اس ملک میں ہمیں پیسے نہیں ہیں تو بھوکے رہو چھین کے کھاؤ یا مرجاؤ جاننے والا ایک وہی ایجنٹ تھا۔ہمیں اُسکے ہم روٹی منگوانے کے لئے پیسے دیتے تھے۔احکامات ماننے تھے ورنہ جنگ کے بعد کے اُن جب وہ روٹی لاتے تو ایک ایک روٹی دور سے دنوں میں شام سے کسی ملک فون تک نہ ہوتا تھا نہ ایسے پھینکتے جیسے فرز بی پھینکتے ہیں۔ہم روٹی کوئی ڈاک آتی جاتی تھی کہ ہم کسی کو بتاتے۔کھاتے اور اگر خریدی ہوئی پانی کی بوتل ختم ہو ہم سب کے انٹر ویو ہو چکے تھے خدا کا شکر ہے جاتی تو ٹائلٹ کے ساتھ لگی ٹونٹی سے پانی پیتے کہ سب کے بیانات ایک جیسے تھے جسکی وجہ سے تھے۔عربی قیدیوں کو جب کبھی گھر سے کھانا آتا پولیس کو یقین ہو گیا کہ ہم خود مظلوم ہیں تا ہم تو وہ دیوار کی طرف منہ کر کے کھاتے تھے تا کہ ہمارے بتائے گئے حلئے والے ایجنٹ کی تلاش کوئی اور شامل نہ ہو۔کبھی کبھی کھانے پر لڑائی بھی میں چھاپے مارے جارہے تھے۔ایسا کوئی ہوتا ہوتی تھی چھینا جھپٹی تو عام تھی۔کوئی ساتویں تو ملتا۔ادھر ہم جیل کے شب و روز کے عادی ہو آٹھویں دن ہی ہم بھی اُنکے رنگ میں ڈھلنے لگے چکے تھے۔کوئی ایک ہفتے سے اس دڑبے میں ہم تھے۔ایک دن تو ایسے ہوا کہ کوئی کھانے کے لئے بند تھے۔سارے قیدی واقف بن چکے پوچھنے نہ آیا۔کھانا کھائے ہوئے چوبیس گھنٹے گزر تھے۔کھانے کا یہ انتظام تھا کہ دن میں دو مرتبہ وہ چکے تھے پانی پی پی کے گزارہ کر رہے تھے۔اُسی چھوٹی سی کھڑکی کھول کے پوچھتے کہ کسی نے کچھ روز ایک عربی کو اُسکے گھر والوں نے سالم مرغ منگوانا ہے تو پیسے دے دے۔سب پیسے دے روسٹ اور روٹیاں بھجوائیں۔وہاں دمشق میں