دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 19 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 19

) 19 بتائی۔ہمارے پاس وقت بہت کم تھا کسی کو بھی ماررہے ہیں۔کبھی کہتا دس دس کوڑے کھانے کے کسی وقت بلا یا جا سکتا تھا چناچہ ہم سب مل کے لئے تیار ہو جاؤ۔کبھی کہتا ہمیں کرنٹ لگا کے ہم بیٹھ گئے اور ایجنٹ کا ایک فرضی نام حلیہ اور سے سب کچھ اگلوا لیں گے۔ہم سب نے اُس اُسکا پاکستان کا پتہ وغیرہ سوچ لیا بلکہ ساری رات کے آگے ہاتھ جوڑے کہ خدا کے لئے کچھ دیر اُٹھ اُٹھ کے ایک دوسرے کو پوچھتے رہے کہ اگر خاموش ہو جاؤ۔بہت تکلیف دہ انتظار کی گھڑیاں اُسکا رنگ پوچھا تو کیا کہنا ہے۔اُسک ناک کیسی تھیں۔مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے کہ وہ وقت ہے اُسکا قد کتنا ہے۔ایک فلمی قسم کے دوست نے اس قدر تذبذب والا تھا کہ ہم سب چاہ رہے تھے تو مشورہ دیا کہ سیدھا سیدھا سلطان راہی کی کہ اگلی باری میری ہوتا کہ جو ہونا ہے جلدی سے شخصیت کو ذہن میں رکھ لیا جائے تاکہ سب صحیح ہو جائے۔آخر کوئی چار گھنٹے بعد میری باری بھی حلیہ بیان کرسکیں۔اُسکا مشورہ معقول تھا لیکن پتا آہی گئی۔کافی دیر میرا انٹرویو ہوا۔ایجنٹ کا حلیہ نہیں کیوں نہیں مانا گیا اور فرضی حلیہ ہی سوچا گیا۔اور ٹھکا نہ طے شدہ منصوبے کے تحت بتایا۔انٹرویو اگلے دن ہم سب کے الگ الگ بیانات کے آخر میں پولیس افسر نے مجھے کہا کہ جب تک ہوئے۔جس کو لے جاتے تھے اُسے واپس نہیں وہ ایجنٹ گرفتار نہیں ہو جاتا آپ لوگ جیل میں لاتے تھے اس لئے ہمیں نہیں پتہ تھا کہ اُس کے رہیں گے کیونکہ صرف آپ یعنی ہم ہی اُسے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔تاہم وقتاً فوقتاً عمارت کے پہچان سکتے ہیں۔سیرین ایر لائن کو جرمنی کی مختلف حصوں سے تشد داور چیخ و پکار کی آوزیں آ حکومت نے لاکھوں ڈالر جرمانہ کیا ہے کہ وہ جعلی رہی تھیں جو پہلے بھی آتی رہتی تھیں۔ہمارا ایک ویزوں پر مسافروں کو جرمنی لا رہی ہے اس لئے دوست جو کہ گاؤں سے تھا ہمارا ترا نکالنے حکومت شام کے لئے ضروری ہے کہ اس حلئے میں پیش پیش تھا۔کبھی کہتا کہ لگتا ہے الٹا لٹکا کے کے ایجنٹ کو فوری گرفتار کیا جائے۔یہ سنتے ہی