دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 18 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 18

) 18 مجھے لگا کہ کہہ رہے ہیں یہی ہے یہی ہے پکڑ لو برداشتہ ہو کے اللہ کو پیارے ہو گئے ہمیں تب جانے نہ پائے۔اُن کے چہرے خوشی سے ایسے عربی زبان نہیں آئی اب ایک گھنٹے میں کیسے آسکتی تمتما رہے تھے جیسے انہوں نے مریخ پر پانی ڈھونڈ ہے لیکن ایسا ادبی مذاق کرنے کا وقت نہیں تھا میں لیا ہو۔انہوں نے پولیس کو میرے متعلق یہی نے پھر یہی کہا کہ میں ایجنٹ نہیں ہوں نہ ہی میں بیان دیا کہ یہی شخص ٹکٹوں کے حصول کے لئے بار اسرائیلی دہشت گرد ہوں میں نے ایک ایجنٹ کو بار ہمارے پاس آتا تھا۔وہ پولیس آفیسر کوئی پیسے دیئے تھے کہ کسی طرح مجھے جرمنی پہنچا دو شریف قسم کا آدمی تھا۔اُس نے انہیں جانے کا حکم۔میرے پیچھے کھڑا پولیس والا میرے بال دیا ،سگریٹ سلگائی اور بڑے دھیمے لہجے میں مجھ دبوچے ہوا کھڑا تھا اور میرے سر کو ایسے دائیں سے کہنے لگا میرا وقت ضائع نہ کرو سچ سچ سب کچھ بائیں ہلا رہا تھا جیسے اُسے اس کام میں لطف آ رہا بتا دو تم کتنے عرصے سے انسانی سمگلنگ میں ملوث ہو۔مجھے ہمیشہ سے سر میں مالش کروانے کا شوق ہو اسرائیل سے کب شام پہنچے ہو۔کس کے لئے رہا ہے لیکن اُس روز وہ ظالم میرے سر کے بال کام کرتے ہو وغیرہ وغیرہ۔اس نے مجھے بتایا کہ ایسے بھینچ کے دیکھ رہا تھا جیسے اُنکی پائیداری یہ وہ جیل ہے جہاں سے کبھی کوئی باہر نہیں گیا جو بھی چیک کر رہا ہو۔بڑا افسر مجھے کہنے لگا آج میں مار آتا ہے اُسکی لاش ہی باہر جاتی ہے۔اُسنے کہا کہ پیٹ کے موڈ میں نہیں ہوں اسلئے میں تمہیں ابھی جب تمہیں الٹالٹکا ئیں گے تو ایک گھنٹے میں چوبیس گھنٹے کی مہلت دیتا ہوں ضد نہ کرو مان جاؤ تم فرفر عربی بولو گے۔میرا دل چاہا کہ اُسے کہوں کہ تم ایک اسرائیلی جاسوس ہو۔یہ کہہ کے مجھے کہ ہمارے عربی کے استاد اللہ بخشے ہمیں چار واپس میرے ساتھیوں کے پاس لاک اپ میں سال، چھٹی کلاس سے دسویں کلاس تک سوٹیاں بھجوا دیا گیا۔کافی دیر بعد جب میرے ہوش مار مار کے عربی سکھانے کی کوشش میں دل ٹھکانے آئے تو دوستوں کو ساری بات