دوزخ سے جنت تک — Page 16
) 16 کھلا اور چھ اور قیدیوں کو ہمارے اوپر پھینک دیا جیلوں میں گزاریں گے۔اُسنے بتایا کہ اب کوئی گیا۔وہ سر اُٹھا کے ادھر اُدھر ایسے دیکھ رہے تھے تبارک نامی پاکستانی ہمیں ملنے آئے گا جسے جیسے مرغیوں کے بھرے ہوئے دڑبے میں ہمارے ایجنٹ نے ایک بھاری رقم کے عوض ہمیں چھڑوانے کا فریضہ سونپا تھا۔اب تک ہمیں معلوم ہو چکا تھا کہ ہمیں جعلی ویزوں کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔اگلے روز ہم سب نو دوستوں کو اس کمرے سے مزید چھ مرغیاں پھینک دی جائیں۔معلوم ہوا کہ نکال کے اسی عمارت کے ایک اور کمرے میں وہ ہمارے ہی باقی چھ ساتھی تھے۔وہ دل برداشتہ بلایا گیا اور مختصر بیان ہوئے۔سب کو واپس اُسی اور حواس باختہ تھے جبکہ ہم انہیں تسلی دے رہے چھوٹے کمرے میں بھجوا دیا گیا سوائے تھے اور دل ہی دل میں خوش ہو رہے تھے کہ چلو میرے۔مجھ سے تین چار بڑے سخت گیر پولیس سب اکھٹے تو ہوئے ہیں۔ہمہ یاراں جنت ہمہ افسران عربی زبان میں سوالات پوچھتے رہے۔یاراں دوزخ ، انہوں نے بتایا کہ ہمارے گروپ میں نے انگلش میں جواب دینے کی کوشش کی تو کی چار عورتوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ہمارا اُن میں سے ایک مجھ پر تھپڑوں اور ٹھوکروں سے ایجنٹ شام میں ہی کہیں روپوش ہو گیا ہے اُسنے پل پڑا اور کہنے لگا عربی بولو۔میں نے اردو اور جاتے ہوئے ہمارے لئے پیغام دیا ہے کہ کبھی انگریزی میں کہا کہ میں عربی نہیں بول سکتا۔میرا اصل نام حلیہ یا پتہ پولیس کو نہ بتانا کیوں کہ میرے عربی نہ بولنے پر وہ سیخ پا ہو رہے تھے۔اس ملک میں صرف میں ہی آپکو چھڑوا سکتا ہوں اسنے عربی میں مجھ سے پوچھا ما اسمك ) اگر میں بھی جیل میں چلا گیا تو ہم ساری عمر انہیں تمہارا نام کیا ہے )۔میں نے انگلش میں جواب