دوزخ سے جنت تک — Page 45
) 45 آٹھ دس کھانا پکانے والوں کے ساتھ ہم دس بغیر کسی بڑی مجبوری کے دوسروں کا بوجھ اپنے مددگار تھے۔بڑے بڑے دیکھے دھوتے رہے سروں پہ نہیں اُٹھاتا لازمی طور پہ وہ کسی نہ کسی پیاز کاٹتے رہے آلو چھیلتے رہے۔صبح نو بجے سے قید میں ہوتا ہے۔آخر کسی طرح دن ختم ہو ہی گیا شام کے چھ بجنے کو آئے تھے لیکن ہمارا کام ختم کو اور میں آکے فرش پہ بغیر کھانا کھائے لمبی تان نہیں آرہا تھا آلو چھیل چھیل کے اور کاٹ کاٹ کے سو گیا۔اُس کے بعد جب مشقت کی باری کے میرے ہاتھ تھک گئے۔وقت دکھانے والی آئی سب سے پہلے میں سولیرہ نکال کے دیتا تھا یہ گھڑی بھی بڑی عجیب چیز ہے جب بہار اور جیل میں ہم قیدی اشاروں سے ٹوٹی پھوٹی خوشی کے دن ہوتے ہیں تو ایسے تیزی سے چلتی انگلش اردو اور عربی میں ایک دوسرے کو کہانیاں ہے کہ لگتا ہے جیسے اسے پر لگ گئے ہوں اور سختی بھی سناتے تھے۔مجھے ایک ہی کہانی آتی ہے جو کے اور خزاں کے دن ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ انہیں بھی سنائی۔وہ کچھ ایسے ہے کہ پرانے رک رک کے چل رہی ہے۔آج دن ختم ہونے کا زمانے میں کسی ملک میں رواج تھا کہ وہ اپنا ایک نام نہیں لے رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ آج بادشاہ چنتے تھے۔دس سال تک اُسکی بے حدو تک کتنے ہی دن نو بجے سے چھ بجے تک آرام حساب عزت اور خدمت کرتے تھے لیکن دس سے گزارے ہیں۔ہم تو جیل میں ایسا کر رہے سالوں بعد اُسے اُٹھا کے جنگل بیابان میں تنہا ہیں دنیا میں کتنے لوگ ہیں جنہیں ہر روز ہی ایسا یا مرنے کے لئے چھوڑ آتے تھے اور پھر اپنا نیا اس سے بہت زیادہ کرنا پڑتا ہے۔اپنے وطن بادشاہ چن لیتے تھے۔اس لئے جو بھی بادشاہ بنتا و کے قلی اور مزدور بہت یاد آئے جو نجانے کتنوں ، دس سال خوب عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتا سالوں سے لوگوں کا بوجھ اُٹھا رہے ہوتے ہیں۔اور جلدی جلدی خوب مال و دولت ہیرے صرف ایک دن کام کر کے مجھ پہ کھلا کہ کوئی بھی جواہرات استعمال کرتا کیونکہ اُسے علم ہوتا تھا کہ