دوزخ سے جنت تک — Page 37
) 37 ہم خاموش بیٹھ رہے۔یہ کمرہ کافی بڑا تھا اور عین میں لیٹ کے سونے کی کوشش کرنے لگے۔رات ہواؤں کی زد پہ تھا جسکی وجہ سے سردی بڑی تیزی کے کوئی ایک دو بجے کا عمل ہو گا کہ دروازہ کھلنے کی سے بڑھ رہی تھی۔ہمارے ساتھ والے کمرے آواز سے ہم چوکنا ہو گئے۔تین چار سپاہی اندر میں ایک ماں بیٹی کو بھی قید کیا گیا تھا۔دونوں داخل ہوئے اور ان ماں بیٹی کی طرف کمروں کے درمیان سلاخیں تھیں یا یوں کہہ لیں بڑھے۔لڑکی اور اُسکی ماں نے زارو قطار رونا کہ ایک بڑے ہال کو سلاخیں لگا کے دو کمرے شروع کر دیا۔سپاہیوں نے لڑکی کو بازو سے پکڑا بنائے گئے تھے۔اُسکی بیٹی کوئی سولہ سترہ سال کی اور باہر کو گھسیٹنے لگے۔شامی قیدی اور ہم سب خوبصورت اور معصوم لڑکی تھی اور خوف کے معاملے کی سنگینی جان گئے اور کھڑے ہو کے ان مارے دونوں ماں بیٹیاں ہمارے قریب لیکن سپاہیوں کو برا بھلا کہنے لگے۔شامی قیدیوں کو سلاخوں کے دوسرے پار بیٹھیں تھیں حقیقت پولیس والوں نے بتایا کہ ہم اس لڑکی کو تفتیش کے بات ہے کہ خود سے زیادہ اُن پہ ترس آ رہا تھا کہ وہ لئے لے کر جارہے ہیں۔شامی قیدیوں نے اور کیوں اس مشکل میں گرفتار ہیں۔آہستہ آہستہ ہم سب نے خوب شور مچایا کہ آپ اس وقت سردی ہمارے بس سے باہر ہونا شروع ہوگئی اور اسے یہاں سے نہیں لے کے جاسکتے۔عدالت تو ہم باقاعدہ ٹھٹھر نے لگے۔سردی سے بچنے کے کل صبح لگے گی۔ہمارے بھر پور احتجاج اور شور لئے ہم نے ہال میں ایک کونے سے دوسرے شرابے کے باوجود اُن درندہ صفت سپاہیوں کے کونے میں دوڑ لگانا شروع کی جس سے وقتی طور آگے ہماری کچھ پیش نہ گئی اور وہ اُس معصوم سی پر جسم گرم ہو گئے۔ان شامیوں کے پاس دو تین شامی لڑکی کو اپنے ساتھ لے گئے اور کوئی کمبل بھی تھے لیکن ہمارے پاس کمبل وغیرہ نہ دو گھنٹوں کی تفتیش کے بعد اُسے نیم بے ہوشی کی تھا۔آہستہ آہستہ ہم سب تھک گئے اور ایک کونے حالت میں پھینک گئے۔ایک بھوک دوسرے