دوزخ سے جنت تک

by Other Authors

Page 30 of 67

دوزخ سے جنت تک — Page 30

) 30 باہر جھانکنے کے لئے صرف ایک مربعہ فٹ کی اُس پر کوڑے برسائے گئے تھے۔انٹونی سلاخوں والی کھڑکی تھی جس پر پہلے ہی دوڑ کے میرے ساتھ بے ہوش بڑا تھا اور میں اپنے آپ عربی قیدی پہنچ گئے۔سچ بات ہے کہ ہمارے دل کو دنیا کا سب سے بے بس انسان پا رہا تھا۔ہم خون کے آنسو رو رہے تھے۔پھر تھوڑی ہی دیر انٹونی کا جسم دباتے رہے اُسکے منہ میں پانی میں جیل کی پوری عمارت انٹونی کی دلدوز چینیوں ڈالتے رہے۔گو وہ تشدد براہ راست ہمارے سے لرز اُٹھی۔پندرہ میں منٹ کا وہ وقت جسموں پر نہیں ہوا تھا لیکن یقین کریں تکلیف ہمارے لئے بہت دشوار تھا۔میں منٹ کے بعد اُس سے بھی زیادہ تھی۔میری اپنی حالت اُس وہ انٹونی کو بے ہوشی کی حالت میں کمرے میں دن غیر تھی۔بخار سے میرا جسم تپ رہا تھا، سانس پھینک گئے۔انٹونی کے منہ سے اور ناک سے لینے میں دشواری تھی اور میرے ساتھ لہو لہان خون بہہ رہا تھا۔اُسے بہت شدید طریقے سے انٹونی کسی دوسال کے بچے کی طرح بلک بلک کے رورہا تھا اور نیم بے ہوش تھا۔میں سوچ رہا تھا مارا گیا تھا ایک عربی جو کھڑ کی میں سے دیکھنے میں کامیاب ہو گیا تھا اُسنے بتایا کہ ظالموں نے انٹونی کو ٹائر میں ایسے ڈالا ہوا تھا کہ اُسکے دونوں پاؤں اور سر بیک وقت ایک ٹائر میں تھے اور پھر کہ نجانے یہ کس کا بیٹا ہے کس کا بھائی ہے۔مجھے لگ رہا تھا کہ جنت دوزخ تو آخرت کی زندگی میں ہوں گی لیکن انسانوں نے اپنے ہاتھوں سے دنیا کو دوزخ ضرور بنایا ہوا ہے۔اذیت صرف یہ نہیں ہوتی کہ آپ کے جسم پر چوٹیں ہوں بلکہ اذیت یہ بھی ہے کہ آپ کے سامنے کسی پر ظلم کیا جارہا ہو اور آپ کچھ نہ کر سکتے ا ہوں سوائے خاموش رہنے کے۔انٹونی کی