دوزخ سے جنت تک — Page 27
) 27 دائرے میں شامل کر لے یوں لالچ میں آکے ہوئے اپنی موت سے بھی مشورہ کر لیا جائے جو و و دائرہ بڑا کرتا گیا۔سورج ڈھلنے کے قریب تھا اس دائرے کے اختتام پر بازو پھیلائے ہمارے اب دائرہ مکمل کرنے کے لئے وقت کم رہ گیا تھا استقبال کے لئے کھڑی ہوتی ہے۔کہتے ہیں کہ سو اُس نے اور بھی تیز تیز بھاگنا شروع کر دیا ایک آدمی اپنے دنیا کے کاموں میں مصروف اور تاکہ زیادہ سے زیادہ جگہ کا مالک بن سکے۔پھر مستقبل کے خواب بننے میں مصروف تھا کہ موت سورج ڈھل گیا وہ غلام گرتے پڑتے اکھڑی کا فرشتہ سامنے آکھڑا ہوا جسکے ہاتھ میں ایک سانسوں کے ساتھ دوڑتے دوڑتے اُس مقام پہ صندوق تھا۔موت کے فرشتے نے کہا چلو بھائی پہنچ گیا جہاں سے دائرہ شروع کیا تھا یہاں پہنچ زندگی تمام ہو گئی ہے۔اُس آدمی نے خوفزدہ اور کے غلام گرا اور دم توڑ گیا۔دائرہ مکمل ہو چکا تھا اُکھڑی ہوئی سانسوں سے کہا کہ تم نے مجھے کوئی بادشاہ نے درباریوں کو کہا جس جگہ یہ گرا ہے یہیں وارننگ نہیں دی ابھی تو میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا اسکی قبر بنادو۔اتنی ہی زمین اسکی تھی یا اتنی ہی زمین کہ تم آ جاؤ گے ابھی تو میرے سارے کام کی اسکو ضرورت تھی یونہی اس نادان نے اتنی میرے سارے خواب ادھورے ہیں۔موت تکلیف اُٹھائی۔دمشق کے تہہ خانوں میں مجھے کے فرشتے نے کہا کہ ہر روز دنیا میں ہزاروں لوگ لگا کہ ہم بھی اپنی خواہشوں کے غلام ہو کے غلام لمحوں میں لقمہ اجل بن جاتے ہیں قبرستانوں کے گردشوں میں گھوم رہے ہیں۔اپنی خواہشوں کے شہروں کے شہر آباد ہیں اس سے بڑی اور کیا دائرے بڑے کرتے جا رہے ہیں اور ہماری وارننگ دیتے۔اُس آدمی نے کہا کہ میرے بیوی موت ہم سے کچھ دور کھڑی ہماری بے سود بچے میرے بغیر کچھ نہیں کر سکتے وہ غم سے مر مشقتوں کو دیکھ کے مسکرا رہی ہوتی ہے۔عقلمندی کا جائیں گے۔فرشتے نے مسکراتے ہوئے کہا یہ تقاضہ یہ ہے کہ خواہشوں کا دائرہ بڑا کرتے تمہارا وہم ہے۔کوئی کسی کے بغیر نہیں مرتا اور