دوزخ سے جنت تک — Page 22
) 22 قانون ہے۔مجھے بھی فوج میں جانے کا کہا گیا دعویدار ہیں۔ہمیں اس جیل میں کیا ہوتا جا رہا ہے۔میرے انکار پر مجھے جیل بھیج دیا گیا ہے اور ہے۔کہا گیا ہے کہ پہلے تو دو سال کی آپشن تھی اب جیل میں ہر کوئی ہم سے یہ ضرور پوچھتا تھا کہ تم بطور سزا یا ساری عمر جیل رہو یا ساری عمر فوج سنی ہو یا شیعہ۔انکا خیال تھا کہ پاکستان میں میں کسی امیر اور متمول گھرانے کا نوجوان لگ رہا شیعہ سنی ایک دوسرے کو دیکھتے ہی لڑنا شروع تھا۔پہلے روز ہی اس نوجوان کے گھر والے اسے کر دیتے ہیں۔کوئی ایک ہفتے بعد ہمیں بتایا گیا کھا نا ٹفن میں دے گئے۔اس نوجوان نے ٹفن کہ آپ کا کوئی ملاقاتی آیا ہے۔ہم بہت خوش پکڑا اور ہم سب سے مخاطب ہو کے کہنے لگا آؤ ہوئے کہ ہماری بھی کوئی عزت ہے۔ملاقاتی نے دوستومل کے کھاتے ہیں۔اُسکا یہ فقرہ ٹن کے ہم بتایا کہ اُسکا نام تبارک ہے۔ہمارا ایجنٹ سب سب حیران ہوئے اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کچھ اُسے بتا کر پاکستان فرار ہو گیا ہے۔اب وہ صالح بشارت ، اور جمشید نے بیک وقت ایک ہم سے رابطے میں رہے گا اور جلد چھڑوانے کے دوسرے کی طرف دیکھا اور کہا کہ یہ شخص مسلمان لئے کوشش کرے گا۔وہ بہت اچھا آدمی تھا اُسکی نہیں لگتا۔شائد وہ کچھ اور کہنا چاہتے تھے۔ایجنٹ سے پیسوں کی جو بھی ڈیل ہوئی تھی وہ اُسکا بہر حال کھانا کھایا اُسکا شکریہ ادا کیا اور ذاتی معاملہ ہے لیکن اُسنے ہماری بہت مدد کی۔راز داری سے پوچھا کہ کیا تم مسلمان ہو۔اُس ایک روز ہمیں بتایا گیا کہ تمارا کوئی ملاقاتی آیا نے کہا میں یہودی ہوں۔اب میں کیا لکھوں کہ ہے کھانا لے کے۔شام میں ہمارا تبارک کے کیوں ہمیں چپ لگ گئی۔سخاوت فیاضی اور علاوہ کوئی واقف نہ تھا سو ملاقاتی کاسن کے ہمیں مہمان نوازی قربانی اور ایثار کے لئے تو ہمارے حیرت ہوئی۔میں اُس ملاقاتی کو ملنے گیا۔کوئی آباؤ اجداد مشہور ہیں اور ایسی صفات کے تو ہم پاکستانی تھا کھانا ہمیں دے گیا اور باوجود میرے