ولکن شُبّھہ لھم — Page 67
44 لکھا ہے کہ وَيَخْلُواْ كَمَا خَلَوْا بِالمَوْتِ ادِ الْقَتْلِ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح دار فانی سے کوچ کر جائیں گے جس طرح دوسرے یہ انبیاء علیہم السلام طبعی موت یا قتل کے ذریعہ گزر گئے۔پس ثابت ہوا کہ موت کے علاوہ اس لفظ کے کچھ اور منے کرنا ہرگز جائز نہیں۔اور اس آیت کے ہوتے ہوئے یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ حضرت جھے علیہ السّلام اس آیت کے نزول کے وقت تک زندہ موجود تھے۔کیا کسی کی عقل میں یہ بات آسکتی ہے کہ وہی لفظ جو صاف صاف ایک لاکھ چو میں ہزار انبیا تو کی موت کی خبر دے رہا ہو حضرت علی علیہ السّلام کی دفعہ یکدم اپنے معنے ایسے تبدیل کرے کہ مارنے کی بجائے آسمان پر لے جا بٹھائے۔اگر اسی طرح الفاظ گرگٹ کی طرح اپنے رنگ بدلنے لگیں تو پھر تو سہ بات کا ہر مطلب نکالا جا سکتا ہے یہ موت سے مراد نہ ندگی اور زندگی سے موت مراد لی جا سکتی ہے۔عالم کو جاہل اور جاہل و عالم بنایا جا سکتا ہے رات کو دن اور دن کو رات کہا یا سکتا ہے غرضیکہ جہان معانی میں وہ طوفان بے تمیزی بر پا ہو اور ایسا اندھیر آئے کہ ساتھ کو ہاتھ سمجھائی نہ دے! صحابہ کی گواھی اگر ابھی بھی کسی صاحب کی پوری طرح تسلی نہ ہوئی ہو۔تو ان کی تسلی کی خاطر صحابہ رضوان اللہ علیہم کی بھی ایک نا قابل بہ گورا ہی پیش کی جاتی ہے جین کے بعد اس امر میں ایک ذرہ بھر بھی شک نہیں رہتا کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم کے نزدیک بھی آیت وما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُوْلُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ " کا مطلب یہی تھا کہ ب مزید دیکھیں انشعاب علی البیضادی علوم ما تغير آيت وَمَا محمد ال رَسُول إلى الآخر، والصادر بیروت -