ولکن شُبّھہ لھم — Page 64
ان کی والدہ راستباز تھیں وہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔اب دیکھئے اس آیت سے کتنے واضح طور پر حضرت عیلئے علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی ہے۔پہلے فرمایا کہ سیح ابن مریم ایک رسول کے سوا کچھ نہ تھے پھر ساتھ ہی یہ فرما دیا کہ ان سے قبل تمام رسول گزر چکے ہیں۔گویا حضرت بیلے کی وفات پر ایک نا قابل رو دلیل پیش کردی یہ ویسی ہی طرفہ کلام ہے جیسے کوئی کہے کہ زید ایکہ انسان کے سوا کچھ نہیں اور سب انسان مٹی کے بنے ہوتے ہیں۔پس جس طرح اس فقرے سے ثابت ہوتا ہے کہ لازماً زیدہ بھی مٹی کا بنا ہوا ہے اسی طرح مذکورہ بالا آیت سے حضرت می کی وفات ثابت ہو جاتی ہے۔بصورت دیگر آپ کو رسولوں کے مقدس گروہ سے کوئی الگ چیز ماننا پڑے گا جو ظا ہر غلط ہے۔قرآن کریم اس مسئلے پرمز یہ روشنی ڈالتے ہوئے فرماتا ہے۔کہ اس کی دینی مسیح کی) والدہ راست باز تھیں اور وہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر حضرت میں اب تک زندہ موجود ہوتے تو کیا ان کے متعلق کھانا کھایا کرتے تھے کے الفاظ آنے چاہیئے تھے ؟ یقینا نہیں بلکہ ایسی صورت میں تو چاہیے تھا کہ حضرت سی کا ذکر حضرت مریم سے الگ کر کے یہ فرمایا جاتا کہ حضرت مریم کھانا کھایا کرتی تھیں میسیج اب تک کھاتے ہیں اور وفات کے دن تک کھاتے رہیں گے۔لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔پس حضرت سی کو بھی حضرت مریم کے ساتھ ملا کر ایک گزرے ہوئے زمانے کے انسان کے طور پر آپ کا ذکر فرمانے سے اس مسئلہ کی مزید وضاحت ہو جاتی ہے۔یعنی یہ کہ حضرت میں ایک رسول سے بڑھ کر رتبہ نہیں رکھتے تھے اور جس طرح دوسرے رسول فوت ہوئے آپ بھی فوت ہوئے اور جس طرح باقی کھانا کھانے کے حاجتمند تھے آپ بھی کھانا کھانے کے حاجتمند تھے اور کھانے کے بغیر ہی زندہ رہنے کی کوئی خدائی صفت ان میں موجود نہ تھی۔اس آیت کے ہوتے