ولکن شُبّھہ لھم

by Other Authors

Page 55 of 76

ولکن شُبّھہ لھم — Page 55

۵۵ ان النبوة التي انقَطَعَتْ بِوُجُو بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم الْمَاعِي نُبُوةُ المَشْرِيعِ لَا مَقَامَهَا فَلَا شَرَعَ يَكُونَ نَاسِخًا يَتَرَيهِ صلى الله عَلَيْهِ وَلَا يَزِيدُ فِي شُرْعِهِ حُكُمَا آخَرَ وَهُدًا مَعْنَى وَلِهِ صلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّسَالَةَ والنبوة قدِ انْقَطَعَتْ فَلا رَسُولَ بَعْدِي وَ لا نَى يَكُونُ عَلَى شَرْعٍ يُخَالِفُ شَرِعِى۔افتوحات مکیہ - الجزء الثانی اصل مطبع دار الكتب العربيه الكبرى - مصر) وہ نبوت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے ختم ہوئی ہے وہ صرف شریعت دالی نبوت ہے نہ کہ مقام نبوت۔پس اب ایسی شریعت نہیں آسکتی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو منسوخ قرار دے یا آپ کی شریعت میں کوئی حکم زائد کرے۔یہی معنے اس حدیث کے ہیں کہ ان الرسالة والنبوة قد انقطعت کہ اب رسالت اور نبوة منقطع ہو گئی۔میرے بعد رسول ہے نہ نبی یعنی کوئی ایسانہی نہیں ہو گا جو ایسی شریعت پر ہو جو میری شریعت کے خلاف ہو بلکہ جب کبھی نبی آئے گا تو وہ میری شریعت کے تابع ہو گا ؟ شیخ ابو عبدالله محمد بن علی بن الحسن الحكيم الترمذی لکھتے ہیں :- فإن الذى عمى من خير هذا يظن أنَّ خَاتَمَ النَّبِيِّين تأويله انه آخرة مَبْعَتًا فَأَى مَنْقَبَةٍ فِي هَذَا ، وَأَى عِلْمٍ في هداء هذا تَأْوِيلُ الْبُلْهِ الْجَهَلَةِ ! الالالا الان شيخ ابوعبدالله لم نعل بنا من الحكم التردر المطلع الكاثولی یکیت بر صفر تیر (۳) ترجمہ:۔پس یقیناً وہ لوگ جو خاتم النبیین کے معنی سے نابلد ہیں خیال کرتے ہیں کہ خاتم النبیین کے معنی یہ سنت ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم بیشت کے لحاظ سے آخری نبی ہیں۔بھلا اس میں فضیلت کی کون سی بات ہے ؟ اور معرفت کا کیا نکتہ ہے ؟ یہ تو نادان اور بے وقوف لوگوں